“معرکہِ حق “بنیان المرصوص
ساہیوال پرنس الطاف حسین سے۔ ،،،معروفس۔سماجی بزنس مین شخصیت go پٹرولیم کمپنی کے ایگزیکٹو زین لیاقت نے کہا ہے کہ معرکۂ حق “بنیان المرصوص” — ایک سال نہیں، ایک تاریخ رقم ہوئی
قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف کیلنڈر کے صفحات پر درج نہیں ہوتے بلکہ وہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، فخر اور غیرتبنیان المرصوص کا مستقل حوالہ بن جاتے ہیں۔ “معرکۂ حق، بنیان المرصوص ” بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ایک درخشاں باب ہے، جس نے نہ صرف وطنِ عزیز کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا بلکہ پوری دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔
ساہیوال ڈویژن: ایم اینڈ آر ٹھیکیداروں کے واجبات کے لیے نیا منظم نظام تیار کیا جا رہا ہے، صوبائی وزیر
یہ معرکہ محض توپ و تفنگ کی جنگ نہیں تھا بلکہ یہ ایمان، عزم، اتحاد اور قربانی کی ایسی داستان تھی جس نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے افواجِ پاکستان نے ثابت کیا کہ یہ ملک صرف جغرافیہ کا نام نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے خون سے سینچا ہوا ایک مقدس نظریہ ہے، جس کی حفاظت ہر پاکستانی کا اولین فرض ہے۔
“بنیان مرصوص” کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی دیوار” اور اس معرکے نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان کی قوم اور اس کی افواج واقعی ایک مضبوط دیوار کی مانند ہیں، جو ہر آزمائش، ہر سازش اور ہر جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
اس عظیم کامیابی کے پس منظر میں فیلڈ مارشل General Asim Munir کی قائدانہ صلاحیت، عسکری بصیرت اور جراتمندانہ فیصلے تاریخ کے سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔ ان کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا بلکہ قوم کے اعتماد کو بھی نئی قوت بخشی۔ ان کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ مضبوط لیڈر وہی ہوتا ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی قوم کو امید، استقامت اور کامیابی کا راستہ دکھائے۔ان خیالات کا اظہار عوام دوست پر خلوص شخصیت مسٹر زین لیاقت وڑائچ نے بنیان المرصوص کے حوالے سے صدر ڈیموکریٹک پریس کلب ساہیوال پرنس الطاف حسین اور شہریوں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ
آج جب “معرکۂ حق، بنیان مرصوص” کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے تو یہ صرف ایک سال کی تکمیل نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم اپنے وطن، اپنی نظریاتی سرحدوں اور اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے ہمیشہ متحد رہیں گے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کی قیمت ہمیشہ قربانی، اتحاد اور مسلسل بیداری سے ادا کی جاتی ہے۔
سلام ہے ان عظیم شہداء کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کو محفوظ بنایا، اس موقع پر زین لیاقت وڑائچ نے تینوں مسلح افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا







