سائفر کیس (امریکی کیبل کا معاملہ) پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی حساس مقدمہ ہے، جس میں مئی 2026 کے حالیہ ترین انکشافات کے بعد ایک نیا موڑ آ گیا ہے
ملکی سیاست میں موضوع گفتگو بننے والے ’حساس سفارتی مراسلے‘ کی داستان
-
سائفر کیس، جسے امریکی کیبل معاملہ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے حساس اور متنازع مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ مئی 2026 میں سامنے آنے والی نئی معلومات کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر ملکی سیاست اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن چکا ہے۔ تقریباً چار سال بعد اس مبینہ سفارتی مراسلے کا ذکر دوبارہ اس وقت شروع ہوا جب ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ “ڈراپ سائٹ” نے تین صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شائع کی اور دعویٰ کیا کہ یہی وہ اصل سائفر ہے جس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اس دستاویز کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی حکومت پاکستان نے اس پر کوئی واضح مؤقف پیش کیا ہے۔
اس معاملے کی ابتدا مارچ 2022 میں ہوئی جب اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک جلسے کے دوران ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف بیرونی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک خفیہ سفارتی مراسلے میں پاکستان کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر عمران خان کو اقتدار سے نہ ہٹایا گیا تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عمران خان نے بعد میں اپنی تقاریر میں کہا کہ امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈونلڈ لو نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے ملاقات کے دوران ایسے جملے کہے جو ان کی حکومت کے خلاف سازش کا اشارہ تھے۔ عمران خان کا مؤقف تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی دباؤ شامل تھا۔
امریکہ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پاکستان کی اندرونی سیاست یا حکومت کی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے عمران خان کے دعوؤں کو سیاسی بیانیہ قرار دیا۔ اپریل 2022 میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور عمران خان وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیے گئے۔ اس کے بعد سائفر کا معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا اور یہ سوال اٹھنے لگا کہ آیا واقعی کوئی خفیہ سازش تھی یا یہ صرف سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش تھی۔
بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سائفر کیس کی تحقیقات شروع کیں۔ الزام یہ تھا کہ عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک خفیہ سرکاری دستاویز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور قومی سلامتی سے متعلق معلومات کو غلط انداز میں پیش کیا۔ تحقیقات کے بعد دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا۔ عدالت نے سماعت کے بعد عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت کے مطابق دونوں شخصیات نے ریاستی راز کو عوامی جلسوں اور سیاسی تقاریر میں استعمال کیا جس سے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا۔
اگست 2023 میں اُس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سائفر کے معاملے کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان بعد میں خود یہ کہہ چکے تھے کہ سازش امریکہ نے نہیں بلکہ کچھ اور عناصر نے کی تھی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس بیانیے کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا اور نئی حکومت کو دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑی۔
مئی 2026 میں “ڈراپ سائٹ” کی جانب سے مبینہ اصل دستاویز شائع ہونے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ خبروں میں آ گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور حامی اس دستاویز کو اپنے مؤقف کے حق میں ثبوت قرار دے رہے ہیں جبکہ مخالف سیاسی جماعتیں اسے غیر مصدقہ مواد قرار دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر عوام کی بڑی تعداد یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ سائفر دراصل کیا ہوتا ہے اور اس کیس کی حقیقت کیا ہے۔
سفارتی زبان میں سائفر ایک خفیہ پیغام یا مراسلہ ہوتا ہے جو ایک ملک کے سفارت خانے اور حکومت کے درمیان محفوظ انداز میں بھیجا جاتا ہے۔ اس میں اہم سیاسی، سفارتی یا سیکیورٹی معلومات شامل ہو سکتی ہیں۔ چونکہ یہ دستاویزات حساس نوعیت کی ہوتی ہیں، اس لیے ان کی حفاظت اور رازداری کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں سائفر کیس اسی لیے اتنا اہم بن گیا کیونکہ اس میں قومی سلامتی، خارجہ تعلقات اور ملکی سیاست تینوں عناصر شامل تھے۔
یہ معاملہ آج بھی پاکستان کی سیاست میں ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ کچھ لوگ اسے بیرونی مداخلت کا ثبوت سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک یہ ایک سیاسی حکمت عملی تھی۔ حقیقت جو بھی ہو، سائفر کیس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا باب ضرور شامل کر دیا ہے جس پر بحث آنے والے برسوں تک جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ azeemulshantv اُردو ’ڈراپ سائٹ‘ پر شائع ہونے والی اِس دستاویز اور اِس کے متن کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔







