بجٹ 2026-27: ایک عام پاکستانی کی جیب پر کیا اثر پڑے گا؟ مکمل تجزیہ
پاکستان کی حکومت اگلے چند ہفتوں میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی لاکھوں پاکستانی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بجٹ کے بعد ان کی روزمرہ زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی۔ کیا تنخواہ بڑھے گی؟ پیٹرول سستا ہوگا یا مہنگا؟ بجلی کا بل کم ہوگا یا اوپر جائے گا؟ آئی ایم ایف کی شرائط کتنا بوجھ ڈالیں گی؟ عظیم الشان ٹی وی آپ کے لیے یہ سب سوالوں کا آسان اور مکمل جواب لے کر آیا ہے۔ بجٹ کی مزید خبروں کے لیے ہمارا یہ مضمون بھی پڑھیں: بجٹ 2026-27 تنخواہ دار طبقہ، ٹیکس میں کمی یا مزید بوجھ؟
تنخواہ دار طبقہ | ریلیف کی امید
سب سے بڑی خبر تنخواہ دار طبقے کے لیے ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے وزارتِ خزانہ کو تجویز دی ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار افراد پر عائد 9 فیصد اضافی سرچارج ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
یہ ریلیف اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ رواں مالی سال کے پہلے 9 مہینوں میں تنخواہ دار طبقے نے 425 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا، جو ریئل اسٹیٹ، ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر کے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ ہے۔ اس ناانصافی کا ادراک حکومت کو بھی ہے، اس لیے توقع ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور ملے گا۔ تاہم یہ ریلیف کتنا ہوگا، یہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے پر منحصر ہے۔
آئی ایم ایف | عوام پر کتنا بوجھ؟
بجٹ 2026-27 کی اصل کہانی آئی ایم ایف کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد کی ہیں جن میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں تبدیلی بھی شامل ہے۔ یعنی آنے والے مہینوں میں بجلی اور گیس کے بل مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف کے مطالبے کے تحت حکومت کو 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک طرف تنخواہ دار طبقے کو ڈائریکٹ ٹیکس میں کچھ ریلیف مل سکتا ہے، لیکن دوسری طرف بالواسطہ ٹیکسوں یعنی پیٹرول لیوی، بجلی سرچارج اور گیس نرخوں میں اضافے کی صورت میں بوجھ پھر سے عوام پر آ سکتا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل پر کیا ہوگا؟
گزشتہ بجٹ 2025-26 میں پیٹرول اور ڈیزل پر 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی لگائی گئی تھی، جسے بجٹ 2026-27 میں بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ لیوی اسی پٹرول پر لگتی ہے جو کروڑوں موٹر سائیکل سوار اور چھوٹے گاڑی والے روزانہ خریدتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ امیر تنخواہ دار اپنی بڑی آمدن پر ٹیکس ریلیف لیتا ہے جبکہ غریب موٹر سائیکل سوار پیٹرول پر زیادہ لیوی دیتا ہے۔ ابھی حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی ہوئی تھی — اس کی تفصیل یہاں پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی
بجلی اور گیس کے بل
آئی ایم ایف کی شرائط میں صارفین کو بجلی اور گیس کی اصل لاگت خود ادا کرنے کا اصول شامل ہے، یعنی سبسڈی مزید کم ہوگی۔ بجٹ 2026-27 میں گیس اور بجلی کے نرخ نظرثانی کا اعلان متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق بجلی کے یونٹ کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اضافہ گھریلو اور تجارتی دونوں صارفین کو متاثر کرے گا۔
روزمرہ اشیاء اور مہنگائی
بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 300 ارب روپے رکھا جا سکتا ہے۔ اتنا بڑا ہدف پورا کرنے کے لیے ٹیکس دائرہ وسیع کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر بعض اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھے گا۔ تاہم حکومت کوشش کرے گی کہ بنیادی اشیائے خوردونوش پر بوجھ کم رکھا جائے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر حکومت نے ڈائریکٹ ٹیکس میں ریلیف دیا اور انڈائریکٹ ٹیکس بڑھائے تو سب سے زیادہ نقصان نچلے اور درمیانے طبقے کو ہوگا کیونکہ وہ اپنی آمدن کا بڑا حصہ کھانے پینے، پیٹرول اور بجلی پر خرچ کرتے ہیں۔

ایک عام پاکستانی کے لیے خلاصہ
تنخواہ دار ملازم کو ممکنہ طور پر انکم ٹیکس میں کچھ ریلیف ملے گا، لیکن بجلی، گیس اور پیٹرول لیوی میں اضافے سے یہ ریلیف جزوی طور پر ختم ہو جائے گا۔ چھوٹے کاروباری اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے لیے بجٹ کا اثر محدود ہوگا کیونکہ انہیں انکم ٹیکس ریلیف سے کوئی فائدہ نہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام جاری رہنے کی وجہ سے حکومت کے پاس عوامی مقبول فیصلے کرنے کی گنجائش بہت کم ہے۔
حتمی بجٹ پیش ہونے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ عوام کو واقعی ریلیف ملا یا بوجھ مزید بڑھا۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہ خبر پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور کر لی
بجٹ 2026-27 کی تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے عظیم الشان ٹی وی کے ساتھ جڑے رہیں اور وفاقی بجٹ کی لائیو کوریج کے لیے وزارت خزانہ کی آفیشل ویب سائٹ finance.gov.pk ملاحظہ کریں۔






