آبنائے ہرمز: ایران نے دنیا کی سب سے اہم سمندری شاہراہ پر قبضہ کیسے کیا؟

آبنائے ہرمز: ایران نے دنیا کی سب سے اہم سمندری شاہراہ پر قبضہ کیسے کیا؟

دنیا کی توانائی کا پانچواں حصہ جس تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے، وہ آبنائے ہرمز اب عملی طور پر ایران کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ عالمی معیشت کو ہلا دینے والی صورتحال ہے۔ رائٹرز نیوز ایجنسی نے 20 مختلف ذرائع بشمول ایشیائی اور یورپی شپنگ ماہرین، ایرانی اور عراقی حکام سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اس اہم گزرگاہ پر اپنی گرفت کے لیے ایک انتہائی منظم اور پیچیدہ نظام تشکیل دے لیا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تازہ ترین حالات جاننے کے لیے یہ خبر بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ایران پر حملہ مؤخر | امریکا ایران کشیدگی میں خلیجی ممالک کی سفارت کاری

ایران کا تین پرتوں والا نظام

ایران نے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لیے تین بنیادی طریقے اپنائے ہیں۔

پہلا طریقہ: جزیروں پر فوجی چوکیاں۔ ابوموسیٰ اور لارک جیسے جزیروں پر پاسدارانِ انقلاب یعنی آئی آر جی سی کے مسلح دستے تعینات ہیں جو آبنائے سے گزرنے والے ہر بحری جہاز پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ دستے ضرورت پڑنے پر جہاز کو روکنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔

دوسرا طریقہ: حکومتی سطح کے معاہدے۔ جن ممالک کے بحری جہاز باقاعدگی سے اس راستے سے گزرتے ہیں، انہیں ایران کے ساتھ حکومت سے حکومت کی سطح پر خفیہ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ بھارت اس کی ایک واضح مثال ہے جو اپنی ضروریات کا 90 فیصد تیل اور 50 فیصد گیس درآمد کرتا ہے اور اس کا بیشتر حصہ ہرمز سے گزرتا ہے۔ نئی دہلی نے تہران میں اپنے سفارت خانے کو بطور رابطہ کار استعمال کرتے ہوئے آئی آر جی سی اور ایرانی بحریہ سے باقاعدہ تعلق قائم کیا ہے۔

تیسرا طریقہ: بھاری مالی فیسیں۔ دو یورپی شپنگ ذرائع نے بتایا کہ جن جہازوں کو حکومتی معاہدے کی چھتری حاصل نہیں، انہیں محفوظ گزرگاہ کے لیے 1 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک ادا کرنے پڑتے ہیں۔ دو سینیئر ایرانی حکام کے مطابق جہاز کے مال کی نوعیت کے مطابق سیکیورٹی اور نیوی گیشن فیس طے ہوتی ہے اور یہ فیس ہر ملک پر لاگو نہیں ہوتی۔

ایک جہاز کی دو دن کی اذیت

اس پورے نظام کو سمجھنے کے لیے مالٹا کے پرچم بردار بحری جہاز آگیوس فانوریوس ون کی کہانی سب سے بہترین مثال ہے۔ یہ 330 میٹر لمبا جہاز عراقی خام تیل لے کر ویتنام جا رہا تھا اور اپریل کے آخری دنوں سے دبئی کے ساحل کے قریب اُس وقت تک رکا رہا جب تک عراقی وزیراعظم نے براہِ راست ایران کے ساتھ بات چیت کر کے معاملہ نہ سلجھایا۔

10 مئی کو جب جہاز روانہ ہوا تو اسے ایران کی مقررہ گزرگاہ پر چلنا پڑا۔ ساحل کے بالکل قریب سے گزرتے ہوئے، فوجی چوکیوں کے سامنے سے بچتے بچاتے، جہاز آگے بڑھا۔ دریں اثنا قریب ہی ایک اور جہاز کو کسی پرتابہ شے سے نشانہ بنایا گیا جس سے آگ بھی لگی۔ آبنائے ہرمز کے بالکل کنارے پر پہنچ کر آئی آر جی سی کی تیز رفتار کشتیوں نے جہاز کو روک لیا اور اسمگلنگ کے شبہ میں تلاشی لی۔ کئی گھنٹوں کی تفتیش کے بعد جہاز کو آگے جانے کی اجازت ملی۔ پانچ گھنٹے کا سفر دو دن کی اذیت بن گیا۔ جہاز کے مینیجر کے مطابق کوئی ادائیگی نہیں کی گئی اور ایران نے عراق اور ویتنام کے دباؤ کے بعد جہاز کو گزرنے دیا۔

 آبنائے ہرمز: ایران نے دنیا کی سب سے اہم سمندری شاہراہ پر قبضہ کیسے کیا؟
آبنائے ہرمز: ایران نے دنیا کی سب سے اہم سمندری شاہراہ پر قبضہ کیسے کیا؟

بین الاقوامی قانون اور ایران

بین الاقوامی سمندری قانون کے مطابق کوئی بھی ملک بین الاقوامی آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول نہیں کر سکتا۔ لیکن ایران عملی طور پر یہی کام کر رہا ہے اور دنیا اسے روکنے میں بے بس نظر آ رہی ہے۔ آئی آر جی سی کو ترجیحی سلوک چین اور روس سے وابستہ جہازوں کے لیے دینے کی اطلاعات ہیں جبکہ مغربی ممالک کے جہازوں کو سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے۔

پاکستان پر اثر

آبنائے ہرمز کی صورتحال پاکستان کے لیے بھی تشویش ناک ہے۔ پاکستان کی درآمدی تیل کی بڑی مقدار خلیجی ممالک سے آتی ہے اور اس کا راستہ ہرمز سے ہی گزرتا ہے۔ اگر یہ صورتحال طول کھینچے تو پاکستان میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کے تیل کی درآمد اور اس کے اثرات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے پڑھیں: درآمدی تیل پر انحصار پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم تیل کا گلا گھونٹ مقام ہے۔ روزانہ لاکھوں بیرل تیل، ایل این جی اور دیگر اجناس سے لدے سینکڑوں جہاز اس سے گزرتے ہیں۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی برآمدات کا انحصار اسی راستے پر ہے۔ اگر ایران نے اسے مکمل طور پر بند کر دیا تو عالمی تیل کی قیمتیں آسمان چھو سکتی ہیں اور عالمی معیشت ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتی ہے۔

ایران امریکا مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عظیم الشان ٹی وی کی تازہ ترین کوریج کے لیے azeemulshantv.com وزٹ کرتے رہیں۔ اس خبر کی اصل رپورٹ رائٹرز نے شائع کی ہے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *