انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ میں پاکستان نے برونز میڈل جیت لیا
پاکستان کے نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔ جاپان میں کھیلے گئے انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں پاکستان نے ملائیشیا کو عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور کانسی کا تمغہ (برونز میڈل) اپنے نام کر لیا۔
اس شاندار فتح نے نہ صرف پاکستانی ہاکی کے مداحوں کے چہروں پر خوشی بکھیر دی ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
پاکستان بمقابلہ ملائیشیا: میچ کا احوال اور کھلاڑیوں کی کارکردگی
تیسری پوزیشن اور برونز میڈل کے لیے کھیلے گئے اس میچ میں پاکستانی ٹیم آغاز ہی سے حریف ٹیم پر حاوی نظر آئی۔ قومی کھلاڑیوں نے بہترین حکمت عملی، شاندار پاسنگ اور مضبوط دفاع کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملائیشیا کی ٹیم کو میچ میں واپسی کا کوئی موقع نہیں دیا۔
انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ میچ کے اہم گولز:
پاکستانی فارورڈ لائن نے ملائیشیا کے دفاعی حصار کو توڑتے ہوئے میچ میں مجموعی طور پر 3 گول اسکور کیے۔
پہلا گول: پاکستان کی جانب سے کھیل کے ابتدائی حصے میں عزیر احمد نے شاندار فیلڈ گول کر کے ٹیم کو 1-0 کی برتری دلائی۔ اس گول نے ٹیم کا حوصلہ بے پناہ بڑھا دیا۔
دوسرا گول: میچ پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے پاکستان کو ایک پینلٹی اسٹروک ملا، جسے نوجوان کھلاڑی حیدر آسام نے انتہائی مہارت کے ساتھ گول میں تبدیل کر کے اسکور 2-0 کر دیا۔
تیسرا گول: ملائیشیا پر آخری وار عدیل نے کیا، جنہوں نے میچ کا تیسرا اور آخری گول اسکور کر کے پاکستان کی فتح پر مہر لگا دی۔
ملائیشیا کی ٹیم نے میچ میں واپسی کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور کئی حملے کیے، لیکن پاکستانی گول کیپر اور ڈیفینڈرز نے ان کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا، جس کی بدولت ملائیشیا کی ٹیم میچ میں ایک بھی گول اسکور نہ کر سکی اور میچ 3-0 سے پاکستان کے نام رہا۔
سیمی فائنل میں بھارت کے خلاف سنسنی خیز مقابلہ
واضح رہے کہ برونز میڈل کے اس میچ سے قبل پاکستان کا مقابلہ روایتی حریف بھارت سے ہوا تھا۔ وہ میچ بھی کرکٹ اور ہاکی کے روایتی جوش و خروش کا عکاس تھا:
پاکستانی ٹیم کی ابتدائی برتری: سیمی فائنل کے تیسرے کوارٹر تک پاکستان کو بھارت پر واضح برتری حاصل تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ گرین شرٹس فائنل میں جگہ بنا لیں گے۔ پاکستان کی جانب سے عدیل، فرحان اسلم اور عزیر نے بہترین گولز کیے۔
بھارت کا کم بیک: کھیل کے آخری کوارٹر میں بھارتی ٹیم نے پلے اسٹائل تبدیل کیا اور جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے مسلسل گول کیے۔ بھارت نے آخری لمحات میں دو گول کر کے میچ 5-3 سے اپنے نام کیا اور فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
اگرچہ سیمی فائنل میں شکست سے پاکستانی ٹیم کا فائنل کھیلنے کا خواب ٹوٹ گیا تھا، لیکن نوجوان کھلاڑیوں نے دل برداشتہ ہونے کے بجائے ملائیشیا کے خلاف میچ میں زبردست کم بیک کیا اور تمغہ جیت کر ہی دم لیا۔
پاکستانی انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ کے لیے اس کامیابی کی اہمیت
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں ہاکی کے گرتے ہوئے گراف کو دیکھ کر شائقین کافی مایوس تھے، لیکن انڈر 18 ٹیم کی اس حالیہ کارکردگی نے ایک نئی امید جگا دی ہے۔
-
نوجوان ٹیلنٹ کا ابھار: عزیر احمد، حیدر آسام اور عدیل جیسے کھلاڑیوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں مناسب تربیت اور سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ دنیا کی کسی بھی ٹیم کو شکست دے سکتے ہیں۔
-
بین الاقوامی تجربہ: جاپان جیسے ملک میں ایشیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف کھیلنا ان نوجوان کھلاڑیوں کے تجربے میں اہم اضافہ کرے گا، جو مستقبل میں سینئر ٹیم کا حصہ بنیں گے۔
نتیجہ
انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ میں پاکستان کا برونز میڈل جیتنا اس بات کی علامت ہے کہ قومی کھیل کا عروج واپس لوٹ سکتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرح اب پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کو بھی چاہیے کہ وہ ان جونیئر کھلاڑیوں کی سرپرستی جاری رکھے، انہیں طویل المدتی معاہدے فراہم کرے اور ان کے لیے بین الاقوامی دوروں کا اہتمام کرے تاکہ یہ کھلاڑی آگے چل کر اولمپکس اور ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس میں پاکستان کا پرچم بلند کر سکیں۔
پاکستان ہاکی کے متعلق مزید تفصیلات اور آفیشل اپڈیٹس کے لیے آپ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کی سرکاری ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔