گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: پولنگ کا آغاز اور سیاسی صورتحال کا مکمل جائزہ
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور اہم ترین دن کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے انتخابی دنگل سج گیا ہے۔ علاقے کے غیور ووٹرز اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے اور نئی حکومت کے انتخاب کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ پولنگ کا عمل صبح سویرے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔
اس الیکشن کو خطے کی ترقی، خود مختاری اور مستقبل کی سیاسی سمت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔
انتخابی میدان اور امیدواروں کی تفصیلات
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں اس بار سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے۔ مجموعی طور پر 12 سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتیں اور بڑی تعداد میں آزاد امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
-
میدان میں موجود امیدوار: اس بار انتخابی دنگل میں مجموعی طور پر 396 سے زائد امیدوار آمنے سامنے ہیں۔
-
خواتین کی نمائندگی: جنرل نشستوں پر جہاں مرد امیدواروں کا راج ہے، وہی 8 خواتین امیدوار بھی براہِ راست الیکشن لڑ کر تاریخ رقم کر رہی ہیں۔
-
سیاسی جماعتیں: ملک کی تمام بڑی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، اور تحریک انصاف شامل ہیں، میدان میں موجود ہیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات آپ اے آر وائی نیوز پر دیکھ سکتے ہیں۔
ووٹرز کا تناسب اور انتخابی حلقے
گلگت بلتستان میں ووٹرز کا جوش و خروش دیدنی ہے، جہاں طویل قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد ہے۔
اضلاع اور انتخابی حلقوں کی تقسیم
سیاسی لحاظ سے گلگت بلتستان کو مختلف اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں کچھ اضلاع کو سیاسی گڑھ مانا جاتا ہے:
-
دیامر اور اسکردو: یہ دونوں اضلاع سیاسی طور پر سب سے اہم ترین مانے جاتے ہیں، اور ان دونوں اضلاع میں 4، 4 انتخابی حلقے ہیں۔
-
گلگت، غذر اور گانچھے: ان اضلاع کے حصے میں 3، 3 انتخابی حلقے آتے ہیں۔
-
نگر اور استور: ان دونوں اضلاع میں 2، 2 انتخابی حلقے موجود ہیں۔
-
ہنزہ، شگر اور کھرمنگ: یہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹے اضلاع ہیں، اس لیے یہاں صرف 1، 1 انتخابی حلقہ مختص ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کا ڈھانچہ اور حکومت سازی کا فارمولا
گلگت بلتستان اسمبلی کا ڈھانچہ عام صوبائی اسمبلیوں سے تھوڑا مختلف ہے لیکن حکومت سازی کا اصول یکساں ہے۔
-
کل نشستیں: گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے۔
-
براہِ راست انتخاب: ان میں سے 24 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔
-
مخصوص نشستیں: خواتین کے لیے 6 نشستیں جبکہ ٹیکنو کریٹس اور علما کے لیے 3 نشستیں مختص ہیں۔
سادہ اکثریت کا قانون:
قوانین کے مطابق، کوئی بھی سیاسی جماعت یا اتحاد اس وقت تک حکومت بنانے کا اہل نہیں ہوگا جب تک اسے ایوان میں 17 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد امیدواروں کا کردار حکومت سازی میں ہمیشہ اہم رہا ہے۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور الیکشن کمیشن کی پابندیاں
پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور الیکشن کمیشن نے مل کر انتخابی عمل کو شفاف، پرامن اور غیر جانبدار بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔
-
سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی: پرامن پولنگ کے لیے 12 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں، جبکہ انتخابی عملے کی تعداد 7,678 ہے۔ حساس علاقوں اور خاص طور پر اسکردو میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔
-
موبائل فون پر پابندی: پولنگ اسٹیشنز کے اندر کسی بھی عام شہری کو موبائل فون یا ریکارڈنگ ڈیوائس لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ، الیکشن کمیشن سے باقاعدہ اجازت نامہ رکھنے والے میڈیا نمائندے اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والی اس طرح کی دیگر سرکاری اسکیموں اور سیاسی فیصلوں کو سمجھنے کے لیے آپ ہمارا تفصیلی مضمون خصوصی سولر اسکیم بھی پڑھ سکتے ہیں۔
نتیجہ
گلگت بلتستان کے یہ انتخابات خطے کے مستقبل کے لیے بے حد اہم ہیں۔ عوام کا بھاری تعداد میں نکلنا اور ووٹ کا استعمال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شام پانچ بجے کے بعد جب نتائج کا سلسلہ شروع ہوگا، تو 17 نشستوں کا جادوئی ہندسہ کون سی جماعت پہلے عبور کرتی ہے اور اگلے پانچ سال کے لیے گلگت بلتستان کا تاج کس کے سر سجتا ہے۔
مزید دریافت کریں: lمریکی ریاست اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں جاری ایک مقامی میلے کی رونق اس وقت خوف و ہراس میں بدل گئی جب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کم از کم 8 افراد زخمی ہو گئے۔