آئی ایم ایف پروگرام اور تنخواہ دار طبقے کے لیے محدود ریلیف پیکیج کی تیاری
پاکستان میں نئے مالیاتی سال کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، تاہم ملک کے موجودہ معاشی حالات اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ جاری پروگرام کے باعث حکومت کے لیے بڑے فیصلے کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق، وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں عوام کو وسیع پیمانے پر ٹیکس ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس ایک انتہائی محدود ریلیف پیکیج پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ایک طرف عوام کے مخصوص طبقات کو سہولت فراہم کرنا ہے اور دوسری طرفآئی ایم ایف پروگرامکی سخت شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے تاکہ معاشی استحکام کا سفر متاثر نہ ہو۔
ریلیف پیکیج کن طبقات تک محدود رہے گا؟
ذرائع کے مطابق، مجوزہ ٹیکس ریلیف کا دائرہ کار انتہائی محدود ہوگا اور یہ ہر عام و خاص کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔ حکومت نے اس پیکیج کے لیے چند مخصوص شعبوں کا تعین کیا ہے:
-
تنخواہ دار طبقہ (Salaried Class): مہنگائی کے اس دور میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبس میں معمولی ردوبدل یا ریلیف کی تجویز زیرِ غور ہے تاکہ ان کی قوتِ خرید کو کچھ سہارا مل سکے۔
-
صنعتکار اور برآمد کنندگان (Industrialists & Exporters): ملکی پیداوار بڑھانے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے برآمدی صنعتوں کو ٹیکسوں میں کچھ مراعات دی جا سکتی ہیں تاکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
وزیراعظم کی حتمی منظوری اور آئی ایم ایف سے مشاورت
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریلیف اور بجٹ کے دیگر اہم اقدامات سے متعلق مختلف تجاویز مرتب کر کے وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہیں۔ تاہم، بجٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل دو بڑے مراحل باقی ہیں:
-
وزیراعظم کی منظوری: پیش کی گئی تجاویز میں سے کن کو بجٹ کا حصہ بنانا ہے، اس کا فیصلہ وزیراعظم خود کریں گے۔
-
آئی ایم ایف سے مشاورت: پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہے، اس لیے کسی بھی ایسے ریلیف پیکیج کا اعلان نہیں کیا جا سکتا جس سے ٹیکس اہداف متاثر ہوں۔ چنانچہ ان تمام تجاویز پر عالمی مالیاتی ادارے کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
حکومت کی ان معاشی پالیسیوں اور دیگر علاقائی صورتحال پر اثرات کو سمجھنے کے لیے آپ azeemulshan TV کی سفارتی کوریج بھی دیکھ سکتے ہیں، جو خطے کے استحکام کے لیے اہم ہے۔
معاشی ماہرین کی آراء
اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے پاس اس وقت کھل کر کھیلنے کی گنجائش بہت کم ہے۔ اگر حکومت ٹیکسوں میں بڑی چھوٹ دیتی ہے تو آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں پڑ سکتا ہے، اور اگر ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھایا گیا تو عوامی سطح پر شدید ردِعمل آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت “محدود ریلیف” کی درمیانی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہے۔
نتیجہ
آئندہ بجٹ پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ محدود ریلیف پیکیج کی یہ تجویز ظاہر کرتی ہے کہ حکومت بجٹ خسارے کو کم رکھنے اور عالمی اداروں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو نبھانے کے لیے کس قدر دباؤ میں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وزیراعظم کی منظوری اور آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد تنخواہ دار طبقے اور صنعتکاروں کے حصے میں اصل کتنا ریلیف آپاتا ہے۔