گلگت بلتستان الیکشن: جی بی اے 2 میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آپس میں لڑ پڑے، ماحول کشیدہ

گلگت بلتستان الیکشن: جی بی اے 2 میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آپس میں لڑ پڑے، انتخابی ماحول کشیدہ

گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے لیے جاری پولنگ کے دوران سیاسی گہما گہمی اس وقت کشیدگی میں بدل گئی جب حلقہ جی بی اے 2 (گلگت) کے ایک پولنگ اسٹیشن پر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے کارکنان آپس میں لڑ پڑے۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے حامیوں کے درمیان ہونے والی اس ہاتھا پائی کے باعث پولنگ اسٹیشن پر کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا اور انتخابی ماحول شدید کشیدہ ہو گیا۔

یہ واقعہ گلگت بلتستان کے انتہائی اہم حلقے میں پیش آیا ہے جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان پہلے ہی سے سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی۔

تنازع کی اصل وجہ کیا بنی؟

ذرائع کے مطابق، یہ ناخوشگوار واقعہ حلقہ جی بی اے 2 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 403 پر اس وقت پیش آیا جب سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حافظ حفیظ الرحمن نے پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔

  • پیپلز پارٹی کا اعتراض: حافظ حفیظ الرحمٰن جب پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے لگے تو وہاں موجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں (جیالوں) نے ان کے داخلے پر سخت اعتراض کیا۔ جیالوں کا مؤقف تھا کہ ضابطہ اخلاق کے تحت امیدواروں کو اس طرح اندر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

  • تلخ کلامی اور ہاتھا پائی: اس اعتراض پر وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور پیپلز پارٹی کے جیالے آمنے سامنے آ گئے۔ دونوں اطراف سے نعرے بازی شروع ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدید تلخ کلامی اور پھر باقاعدہ ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔ دونوں جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔

انتخابی ماحول میں کشیدگی اور سیکیورٹی فورسز کی مداخلت

کارکنوں کے درمیان سرِعام مار پیٹ کے باعث پولنگ اسٹیشن نمبر 403 پر افرا تفری مچ گئی اور لائنوں میں کھڑے ووٹرز اپنی جانیں بچانے کے لیے پیچھے ہٹ گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولنگ اسٹیشن پر تعینات سیکیورٹی اہلکار اور اضافی پولیس نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے تندہی سے کارروائی کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کے بپھرے ہوئے کارکنوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا اور صورتحال پر قابو پایا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے اور پرامن جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

گلگت بلتستان کے ان انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد، حلقوں کی تقسیم اور حکومت سازی کے فارمولے کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے آپ ہماری تفصیلی کوریج گلگت بلتستان میں انتخابی دنگل سج گیا پر دیکھ سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق اور چیلنجز

الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان نے پہلے ہی تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے سخت ضابطہ اخلاق جاری کر رکھا تھا، جس کے تحت پولنگ کے دن کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی یا پولنگ اسٹیشنز کے اندر اثر انداز ہونے کی کوشش پر پابندی ہے۔ جی بی اے 2 کا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ سخت سیکیورٹی کے باوجود سیاسی مہم جوئی اور جذباتیت کس طرح امن و امان کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

نتیجہ

جی بی اے 2 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 403 پر ہونے والا یہ تصادم ایک لیمنٹنگ فیکٹر ہے، لیکن سیکیورٹی اداروں کی بروقت مداخلت سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے تاکہ باقی ماندہ پولنگ کے وقت میں ووٹرز بغیر کسی خوف و خطر کے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔ خطے کے پرامن مستقبل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

Related Posts