وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات

پاک ایران سفارت کاری: وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی ہم اسکندر مومنی سے ملاقات

پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے کی موجودہ سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دارالحکومت تہران کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے خصوصی ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات کو امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار جنگ بندی اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی لائیو کوریج آپ اے آر وائی نیوز پر دیکھ سکتے ہیں۔

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام

ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی قیادت کو پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت کا اہم ترین پیغام پہنچایا۔

  • سپریم لیڈر کے نام خط: وفاقی وزیر داخلہ نے ایرانی وزیر داخلہ کو بتایا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے ایرانی سپریم لیڈر کے لیے ایک خصوصی خط اور پیغام لے کر آئے ہیں۔

  • بحران کا پرامن حل: محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ان مخلصانہ سفارتی کوششوں سے تمام معاملات خوش اسلوبی سے نمٹ جائیں گے اور خطے کو درپیش موجودہ بحران جلد ختم ہو جائے گا۔

“ایک بھائی کو مسئلہ ہو تو دوسرے کو احساس ہوتا ہے”

وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاک ایران تعلقات کی گہرائی کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے برادرانہ رشتوں کو گراں قدر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:

“اگر ایک بھائی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو دوسرے بھائی کو اس کا مخلصانہ احساس ہوتا ہے۔ پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں اور ہم ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کی اہم سیاسی شخصیات بشمول باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی انتہائی قدر کرتے ہیں اور انہیں قوی امید ہے کہ یہ مشترکہ کوششیں کسی مثبت نتیجے پر پہنچیں گی۔

تہران روانگی سے قبل اہم مشاورت

ذرائع کے مطابق، تہران روانگی سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف سے ایک اہم ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں ایران اور امریکہ کے مابین جاری تناؤ اور سفارتی مذاکرات کے ایجنڈے پر تفصیلی گفتگو کی گئی تھی۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ کو اس اہم مشن کے حوالے سے خصوصی ہدایات اور گائیڈ لائنز دی تھیں، جس کے بعد وہ تہران کے لیے روانہ ہوئے۔

ایران روانگی سے قبل ملک میں ہونے والے دیگر اہم سیاسی فیصلوں اور عوامی منصوبوں کی تفصیلات جاننے کے لیے آپ ہمارا تفصیلی مضمون خصوصی سولر اسکیم بھی پڑھ سکتے ہیں۔

نتیجہ

وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ تہران اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک فعال ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقاتیں نہ صرف پاک ایران دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی سطح پر جاری کشیدگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔ عسکری اور سول قیادت کا یہ مشترکہ مشن امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔

Related Posts