وائرل تصویر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا
13 مئی 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک تصویر تیزی سے پھیلنا شروع ہوئی جس میں ARY نیوز کی بریکنگ نیوز عمران خان رہائی دکھائی گئی تھی۔ اس مبینہ بریکنگ میں دعویٰ تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو انسانی بنیادوں پر اس ہفتے رہا کیا جائے گا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تصویر ہزاروں بار شیئر ہوئی اور پی ٹی آئی حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
لیکن سچائی کچھ اور نکلی۔
ARY نیوز نے خبر کو سرے سے مسترد کر دیا
ARY نیوز کے ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ چینل نے عمران خان رہائی اس طرح کی کوئی بریکنگ نیوز نشر نہیں کی اور نہ ہی ایسا کوئی بلیٹن چلایا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں سے ہوشیار رہیں اور کوئی بھی خبر شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا جب کسی معروف نیوز چینل کے نام پر جھوٹی خبر پھیلائی گئی ہو۔ پاکستان میں فیک نیوز ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو عوام میں ابہام اور بے چینی پیدا کرتا ہے۔
تصویر کیسے جھوٹی ثابت ہوئی؟
پاکستان کی معروف فیکٹ چیکنگ تنظیم iVerify Pakistan نے اس تصویر کا تفصیلی فرانزک معائنہ کیا۔ ان کی تحقیق میں درج ذیل خامیاں سامنے آئیں:
- لوگو کا دھندلا پن: ARY نیوز کا لوگو اور LIVE بگ تصویر کے نچلے دائیں کونے میں غیر معمولی طور پر دھندلے اور کم ریزولوشن کے تھے جبکہ باقی تصویر واضح تھی یہ ڈیجیٹل ٹمپرنگ کی واضح علامت ہے
- فونٹ کا فرق: بریکنگ نیوز کی عبارت میں استعمال شدہ فونٹ ARY نیوز کے اصل فونٹ سے مختلف تھا
- رنگوں کا عدم توازن: تصویر کے مختلف حصوں میں رنگ اور روشنی کی ترتیب ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتی تھی
iVerify Pakistan کے ماہرین نے اس خبر کو مکمل طور پر من گھڑت اور جعلی قرار دیا۔
پھیلانے والے کون تھے؟
تحقیق کے مطابق یہ تصویر ایسے اکاؤنٹس نے شیئر کی جن کی پوری پروفائل PTI کی حمایت میں تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا تاکہ پارٹی حامیوں میں جوش پیدا کیا جائے اور میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس قسم کی جھوٹی خبریں عوام کو گمراہ کرنے کے علاوہ صحافتی اداروں کی ساکھ پر بھی سنگین ضرب لگاتی ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے Express Tribune کی رپورٹ ملاحظہ کریں۔
عمران خان کیس کی اصل صورتحال
عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کے مقدمات عدالتوں میں جاری ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں £190 ملین کیس سمیت کئی مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے۔ عدالت نے حال ہی میں PTI کے وکلاء کو اپنے دلائل مکمل کرنے کا آخری موقع دیا۔
PTI رہنماؤں کے مطابق ان کی قانونی ٹیم مختلف عدالتوں میں مقدمات لڑ رہی ہے لیکن فوری رہائی کی کوئی یقین دہانی نہیں۔ یاد رہے کہ کسی بھی مستند ذریعے نے اس طرح عمران خان رہائی کی خبر کی تصدیق نہیں کی۔
عمران خان رہائیفیک نیوز سے کیسے بچیں؟
پاکستان میں جھوٹی خبریں پھیلانا ایک باقاعدہ صنعت بن چکی ہے۔ Dawn News اور دیگر معتبر ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر آنے والی عمران خان رہائی خبر کو فوری شیئر کرنا بند کریں اور پہلے یہ اقدامات کریں:
- خبر کا ماخذ چیک کریں کیا یہ کسی معتبر ادارے کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے؟
- تصویر کو Google Reverse Image Search سے verify کریں
- ایک سے زیادہ معتبر ذرائع سے تصدیق کریں
- iVerify یا دیگر فیکٹ چیکنگ ویب سائٹس سے رجوع کریں
سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سوشل میڈیا صارفین کی کیا ذمہ داری ہے۔ جب ہم بغیر تصدیق کے کوئی خبر آگے بھیجتے ہیں تو ہم جھوٹ پھیلانے میں شریک ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر سیاسی معاملات میں جذبات اکثر عقل پر حاوی ہو جاتے ہیں اور لوگ وہ خبر شیئر کر دیتے ہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں نہ کہ جو سچ ہو۔
پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت جھوٹی خبر پھیلانا قانونی جرم بھی ہے اور اس پر سزا ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
وائرل ARY نیوز بریکنگ عمران خان رہائی مکمل طور پر جھوٹی اور گھڑی ہوئی تھی۔ عمران خان کی رہائی کے بارے میں کوئی بھی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔ براہ کرم صرف مستند ذرائع سے خبریں حاصل کریں اور جھوٹی خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔
تازہ ترین اور مستند خبروں کے لیے Azeem ul Shan TV کے ساتھ جڑے رہیں جہاں ہر خبر تصدیق کے بعد شائع کی جاتی ہے۔






