2026 اڈیالہ جیل عمران خان ملاقات پابندی | تازہ ترین خبر مئی

پاکستان کی سیاست میں اڈیالہ جیل ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور اب ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی نے ملک بھر میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ پارٹی رہنما، وکلا، اہلِ خانہ — سب ملاقات سے محروم ہیں، اور معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا ہے۔

اڈیالہ جیل میں ملاقات پابندی کا پس منظر

عمران خان کو مختلف مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔ ابتداء میں محدود ملاقاتوں کی اجازت تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ملاقاتیں مزید محدود ہوتی گئیں اور بالآخر عملی طور پر ملاقاتوں کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کو مکمل آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے — نہ پارٹی رہنما مل سکتے ہیں، نہ ان کے وکلا، اور نہ ہی خاندان کے افراد کو باقاعدہ ملاقات کی سہولت میسر ہے۔ جیل حکام کی جانب سے مختلف بہانوں سے ملاقاتیں روکی جا رہی ہیں۔

19 مئی 2026 | آج کی تازہ ترین صورتحال

آج 19 مئی 2026 کو بھی اڈیالہ جیل سے مایوس کن خبر سامنے آئی۔ روزنامہ جنگ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا وقت مقرر تھا، لیکن ملاقات کی فہرست میں شامل کوئی بھی پارٹی رہنما یا خاندان کا فرد وقت پر اڈیالہ جیل نہ پہنچ سکا۔

بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، چنگیز خان کاکڑ، انتظار پنجوتھہ، علی رحمان اور علی اعجاز بٹر کے نام ملاقات کی فہرست میں بھجوائے گئے تھے — لیکن کوئی نہ آیا۔ جیل ذرائع کے مطابق میڈیکل ٹیم البتہ موجود تھی جس میں پروفیسر ندیم قریشی اور ڈاکٹر عارف خان شامل تھے۔

اڈیالہ جیل عمران خان ملاقات پابندیعدالتی کارروائی | اسلام آباد ہائیکورٹ میں معاملہ

ملاقات پابندی کا معاملہ صرف سیاسی احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ عدالتوں تک بھی جا پہنچا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس حوالے سے ایک اہم کیس زیرِ سماعت ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو وجوہات کے ساتھ آرڈر پاس کرنے کا حکم دیا اور انہیں ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کیا۔ عدالت نے جیل حکام سے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے وکیل کی ملاقات کیوں نہیں کرائی گئی — اس پر توہینِ عدالت کیس بھی دائر کیا گیا ہے۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں موقف اپنایا کہ جیل حکام نے ان کا وکالت نامہ دستخط کرا کے واپس نہیں کیا  یعنی قانونی نمائندگی کو بھی روکا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کا احتجاج

ملاقات پابندی کے خلاف پی ٹی آئی رہنماؤں نے جیل کے باہر احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیے بیٹھے رہے اور مطالبہ کیا کہ انہیں عمران خان سے ملنے دیا جائے۔

کراچی میں بھی پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ اور کارکنان نے ملاقات پابندی کے خلاف احتجاج کیا، جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ پارٹی نے اسے سیاسی جبر قرار دیا۔

حکومت کا موقف

حکومتی حلقوں کی جانب سے موقف اپنایا جا رہا ہے کہ جیل قوانین کے تحت ملاقاتیں ضابطے کے مطابق ہو رہی ہیں اور کوئی غیرقانونی پابندی نہیں لگائی گئی۔ وزارتِ اطلاعات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

تاہم پی ٹی آئی اس موقف کو یکسر مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ سب سیاسی انتقام ہے۔

انسانی حقوق کا سوال

ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق:

  • قیدی کا اپنے وکیل سے ملنا بنیادی آئینی حق ہے
  • خاندان سے ملاقات انسانی وقار کا حصہ ہے
  • مکمل آئسولیشن بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے
  • یورپی یونین پہلے ہی پاکستان کو ٹریڈ ڈیل کی خلاف ورزی پر خبردار کر چکی ہے

عمران خان کا موقف , جیل سے پیغامات

ملاقاتوں کے محدود مواقع کے باوجود عمران خان کے پیغامات وقتاً فوقتاً باہر آتے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے:

“جب تک جیل میں رکھنا ہے رکھیں — غلامی قبول نہیں کروں گا، آخری بال تک لڑوں گا۔”

پارٹی کے مطابق عمران خان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ کسی بھی دباؤ میں آنے کو تیار نہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

اس معاملے میں چند اہم سوالات ابھی جواب طلب ہیں:

  1. اسلام آباد ہائیکورٹ کا اگلا فیصلہ کیا ہوگا؟
  2. کیا جیل حکام توہینِ عدالت کیس کا سامنا کریں گے؟
  3. کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کوئی راہ نکال سکتے ہیں؟
  4. بین الاقوامی دباؤ — خاص طور پر امریکا اور یورپ کا کیا اثر پڑے گا؟

نتیجہ

اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی محض ایک جیل انتظامی معاملہ نہیں — یہ پاکستان کی سیاست، قانون اور جمہوریت کے بارے میں ایک بڑا سوال ہے۔ ایک طرف حکومت قانون کی پاسداری کا دعویٰ کرتی ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی اسے سیاسی ظلم قرار دیتی ہے۔ عدالتیں اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں اور آنے والے دن بتائیں گے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا پلڑا کس طرف جھکتا ہے۔

آخری اپڈیٹ: 19 مئی 2026
ذریعہ: روزنامہ جنگ، ڈان، ایکسپریس نیوز، اسلام آباد ہائیکورٹ کارروائی

Related Posts

راولاکوٹ میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) تصادم: پونچھ میں ماتم، کشیدگی کی اصل وجوہات اور تازہ ترین صورتحال
  • June 9, 2026

Continue reading

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *