غزہ میں بڑی پیش رفت: اسرائیل نے کرم ابو سالم اور رفح راہداری کھولنے کا اعلان کر دیا

رفح اور کرم ابو سالم کراسنگز کا طریقہ کار: اسرائیل کا مروجہ نظام

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان دونوں راہداریوں کو مکمل طور پر عام آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جا رہا، بلکہ یہاں ایک مربوط اور مرحلہ وار (Phased Approach) نظام نافذ کیا گیا ہے۔

۱. رفح کراسنگ: محدود نقل و حرکت کا آغاز

رفح کراسنگ، جو غزہ کو مصر سے ملاتی ہے اور شہریوں کی آمدورفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اسے ابتدائی مرحلے میں صرف محدود نقل و حرکت کے لیے کھولا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس کراسنگ سے گزرنے والے ہر فرد کا ڈیٹا چیک کیا جائے گا اور بغیر پیشگی منظوری کے کسی کو بھی سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

۲. کرم ابو سالم کراسنگ: امدادی سامان کی ترسیل

غزہ میں اشیائے خوردونوش، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت کو دور کرنے کے لیے کرم ابو سالم کراسنگ کا استعمال کیا جائے گا۔ اس راستے سے امدادی سامان کی ترسیل کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے تاکہ غزہ کے ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں تک ضروری سامانِ زیست پہنچایا جا سکے۔

سخت سیکیورٹی نگرانی اور سیکیورٹی کلیئرنس کا نظام

اسرائیلی دفاعی حکام (IDF) کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں اس بات پر سخت زور دیا گیا ہے کہ کرم ابو سالم اور رفح راہداری سے ہونے والی تمام تر سرگرمیاں سخت سیکیورٹی نگرانی اور پیشگی منظوری کے نظام کے تحت ہی چلائی جائیں گی۔

اسرائیلی حکام کا موقف: “سرحدوں پر کسی قسم کی سیکیورٹی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ آمدورفت صرف اور صرف ان افراد تک محدود ہوگی جنہیں مکمل جانچ پڑتال کے بعد باقاعدہ سیکیورٹی کلیئرنس حاصل ہوگی۔”

سفر کی اجازت کن افراد کو ہوگی؟

اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق، ابتدائی طور پر درج ذیل تین کیٹیگریز سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہی رفح راہداری استعمال کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے:

  • شدید بیمار اور طبی مریض: ایسے مریض جن کا علاج غزہ کے تباہ حال ہسپتالوں میں ممکن نہیں اور انہیں فوری سرجری یا کینسر کے علاج کے لیے باہر جانا ضروری ہے۔

  • غیر ملکی شہریت رکھنے والے افراد: وہ غیر ملکی شہری یا دوہری شہریت رکھنے والے فلسطینی جو جنگ کے باعث غزہ میں پھنس گئے تھے۔

  • خصوصی انسانی بنیادوں پر سفر کرنے والے: عالمی فلاحی اداروں کے نمائندے اور مخصوص کیسز کے حامل افراد جنہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفر کی ہنگامی اجازت دی گئی ہو۔

عالمی برادری کا ردِعمل اور اقوامِ متحدہ کا موقف

اقوامِ متحدہ (UN) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) نے طویل عرصے بعد ان کراسنگز کے کھلنے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے یہ محدود سپلائی کافی نہیں ہے۔

عالمی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ جب تک ان راستوں کو تجارتی سامان اور بلاتعطل امداد کے لیے مستقل طور پر نہیں کھولا جاتا، تب تک غزہ میں قحط کی صورتحال اور طبی بحران پر مکمل قابو پانا ناممکن ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ان کوششوں کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی سفارتی سرگرمیوں، جیسے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران اور اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ، کو بھی اس تناظر میں انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادت بھی متحرک ہے، جس کی ایک کڑی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات ہے، جہاں علاقائی سلامتی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

غزہ کے عوام پر اس فیصلے کے اثرات

گزشتہ کئی ماہ سے جاری ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ پٹی میں پینے کے صاف پانی، بچوں کے لیے دودھ اور ہسپتالوں کے لیے لائف سیونگ ڈرگز (ادویات) کا قحط پیدا ہو چکا تھا۔

  1. طبی شعبے کو آکسیجن ملے گی: کرم ابو سالم سے ادویات کی آمد کے بعد ہسپتالوں کے جنریٹرز چلانے کے لیے ایندھن مل سکے گا۔

  2. مہنگائی میں کمی کی امید: اگرچہ یہ سپلائی محدود ہے، لیکن مارکیٹ میں بنیادی اشیاء آنے سے بلیک مارکیٹ اور اشیاء کی قیمتوں میں کسی حد تک کمی متوقع ہے۔

نتیجہ

کرم ابو سالم اور رفح راہداری کا کھولا جانا غزہ کے محصورین کے لیے ایک اندھیری سرنگ میں روشنی کی کرن کی مانند ہے۔ اگرچہ اسرائیل کا سیکیورٹی کلیئرنس کا نظام انتہائی سخت ہے اور اس سے عام شہریوں کے لیے سفر اب بھی ایک کٹھن مرحلہ رہے گا، لیکن امدادی سامان کی مرحلہ وار بحالی سے ہزاروں معصوم جانوں کو بچایا جا سکے گا۔ اب گیند عالمی برادری اور امدادی اداروں کے کورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح اس موقع کا فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ امداد مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔

Related Posts