عمران خان 190 ملین پاؤنڈ کیس | IHC کا اہم حکم نامہ، اگلی سماعت فیصلہ کن
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں دائر اپیل پر تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ARY نیوز کے مطابق چیف جسٹس اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ اگر دفاعی وکیل بیماری یا کسی مجبوری کے باعث عدالت میں پیش نہ ہو سکیں تو ان کی جگہ متبادل وکیل کی پیشی لازمی ہوگی، بصورتِ دیگر عدالت دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ جنوری 2025 میں احتسابی عدالت نے اس کیس میں عمران خان کو 14 سال جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ القادر ٹرسٹ کیس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
الزامات کے مطابق 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کی جانب سے پاکستان کو واپس کیے گئے تقریباً 50 ارب روپے (جو اُس وقت 190 ملین پاؤنڈ کے برابر تھے) کو مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن کے حق میں ایڈجسٹ کیا گیا۔
تازہ عدالتی پیش رفت
تحریری حکم نامے کے مطابق عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے آنکھوں کی ریٹینل بیماری کے باعث مزید مہلت کی درخواست کی تھی۔ تاہم عدالت نے یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ سماعت میں انہیں حتمی موقع دیا جا چکا ہے، لہٰذا اب مزید التوا قبول نہیں کیا جائے گا۔
قید اور قانونی صورتحال
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے کیس کی سماعت مختلف وجوہات کی بنا پر ملتوی ہوتی رہی اور وکلاء کو بارہا مہلت دی جاتی رہی۔
مئی میں تحریکِ انصاف کی قانونی ٹیم نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ جیل انتظامیہ وکلاء کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی، جس پر عدالت نے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی تھیں۔
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ آئندہ سماعت نہایت اہم ہوگی، جس میں یا تو دفاع اپنے دلائل مکمل کرے گا یا عدالت دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنا سکتی ہے۔
تحریکِ انصاف کے حامیوں کو اس کیس کے فیصلے کا شدت سے انتظار ہے، کیونکہ اس کے نتیجے کا براہِ راست اثر عمران خان کی ممکنہ رہائی یا مزید قانونی صورتحال پر پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی—کب اور کیسے؟ نیز سائفر کیس کی تازہ صورتحال۔ azeemulshantv.com