شمالی کوریا | فیل طلباء کو کوئلہ کانوں میں بھیجنے کی دھمکی، تعلیمی نظام میں ہلچل
پیانگ یانگ, شمالی کوریا نے ایک انتہائی سخت قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو طلباء تخصصی امتحانات میں ناکام رہیں گے انہیں کوئلہ کانوں یا تعمیراتی مقامات پر جبری مزدوری پر بھیجا جائے گا۔ Daily NK کے مطابق شمالی کوریا کی ورکرز پارٹی نے 2026 کے آغاز میں سینئر مڈل اسکولوں (جو ہائی اسکول کے برابر ہیں) میں ایک نیا انتخابی نصاب (Elective Subject System) متعارف کروایا تھا۔
اس نئے نظام کے تحت سال کے آغاز میں تخصصی مضامین کے امتحانات لیے گئے لیکن نتائج انتہائی مایوس کن رہے۔ شمالی ہامگیونگ صوبے کے ذرائع نے بتایا کہ “بڑی تعداد میں طلباء اس نئے نظام کے تحت متعارف کروائی گئی تخصصی امتحانات میں مطلوبہ معیار سے نیچے رہے۔” اس پر صوبائی پارٹی کمیٹی کے تعلیمی شعبے نے طلباء کو دھمکی دی کہ مطلوبہ معیار تک نہ پہنچنے والوں کو کوئلہ کانوں یا تعمیراتی مقامات پر جبری کام پر بھیجا جائے گا۔
شمالی کوریا میں تعلیمی دباؤ پہلے سے بہت زیادہ ہے لیکن اس قسم کی سزا نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرینِ انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ یہ ناکام طلباء کے ساتھ ظالمانہ سلوک ہے اور بچوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جبری مزدوری شمالی کوریا میں نئی بات نہیں لیکن اسے سرکاری طور پر تعلیمی ناکامی کی سزا کے طور پر استعمال کرنا ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت ہے۔
شمالی کوریا میں شہریوں کا حال جاننا انتہائی مشکل ہے کیونکہ غیر ملکی میڈیا سے رابطہ سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس کی سزا قید یا موت ہو سکتی ہے۔ Daily NK ایسے ذرائع کا نیٹ ورک رکھتا ہے جو محفوظ چینلز کے ذریعے معلومات فراہم کرتے ہیں۔
اس خبر نے دنیا بھر میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اسے وسیع پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی شائقین بھی اس خبر پر حیران ہیں اور سوال پوچھ رہے ہیں کہ آیا یہ آمریت میں تعلیم کا یہی انجام ہے؟
مزید پڑھیں: امتحانی دباؤ — کامیابی کا راستہ یا ذہنی آزمائش؟ اور نوجوان نسل اور سوشل میڈیا۔ azeemulshantv.com کی اصل رپورٹ پڑھیں۔