فتح-4 میزائل پاکستان کی فوجی طاقت کا نیا مظاہرہ
پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ دفاعی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں۔ گزشتہ دنوں پاک فوج کے آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تربیتی تجربہ مکمل کیا۔ یہ تجربہ محض ایک فوجی مشق نہیں تھا بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کے دفاعی عزم کا واضح پیغام تھا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کے مطابق فتح-4 میزائل کا یہ تجربہ آپریشنل کارکردگی کو پرکھنے اور میزائل کے مختلف سب سسٹمز کی تصدیق کے لیے کیا گیا۔ میزائل نے نشانے پر بالکل درست طریقے سے حملہ کیا جو پاکستان کی دفاعی صنعت کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
فتح-4 میزائل کیا ہے؟
فتح-4 پاکستان کا جدید ترین گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل ہے جو خصوصی طور پر لمبی دوری کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میزائل کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- جدید ایوی اونکس سسٹم: میزائل میں جدید ترین ایوی اونکس نصب ہیں جو اسے ہر موسم اور ہر صورتحال میں درست نشانہ لگانے کے قابل بناتے ہیں
- پریسیژن نیویگیشن: اعلیٰ درجے کا نیویگیشن سسٹم میزائل کو اپنے ہدف سے کبھی بھٹکنے نہیں دیتا
- لمبی دوری کی مار: یہ میزائل دشمن کے اہم اہداف کو دور سے ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
پاکستانی دفاعی ماہرین کے مطابق فتح-4 پاکستان کی اسٹریٹجک ڈیٹرنس صلاحیت میں غیرمعمولی اضافہ کرتا ہے۔ اگر آپ پاکستانی دفاعی ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو ISPR کی آفیشل ویب سائٹ پر تازہ ترین معلومات دستیاب ہیں۔
صدر اور وزیراعظم کی تعریف
اس کامیاب تجربے پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے سائنسدانوں اور انجینئروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کی دفاعی خودانحصاری کی راہ میں سنگ میل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے دفاعی سائنسدان قوم کا فخر ہیں اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔
میزائل تجربات کا سلسلہ
یہ فتح-4 کا تجربہ اکیلا نہیں تھا۔ حالیہ ہفتوں میں پاکستان نے کئی میزائل سسٹمز کے کامیاب تجربات کیے ہیں جن میں فاتح-2 اور پاک بحریہ کا تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل شامل ہیں۔ یہ پے درپے تجربات اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاریوں میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہا۔
دفاعی تجزیہ کار The Diplomat کے مطابق پاکستان کے یہ میزائل تجربات خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا براہ راست جواب ہیں۔
فتح-4 میزائل پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں اہمیت
گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ فضائی تصادم کے بعد سے خطے میں کشیدگی کی لہر برقرار ہے۔ دونوں ممالک اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں اور دفاعی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں فتح-4 کا یہ تجربہ نہ صرف فوجی بلکہ سفارتی لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ قدم دشمن کو واضح پیغام دیتا ہے کہ اگر کوئی جارحیت کی جرأت کرے گا تو اسے منہ توڑ جواب ملے گا۔ بین الاقوامی تجزیہ کار Al Jazeera کے مطابق پاکستان کی یہ فوجی تیاریاں خطے کے سیکیورٹی توازن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستانی عوام کا ردعمل
سوشل میڈیا پر اس خبر کو بے پناہ پذیرائی ملی۔ X (سابقہ ٹوئٹر) پر پاکستانی صارفین نے فوج اور سائنسدانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ #Fatah4 اور #PakistanDefence ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے اور لاکھوں پاکستانیوں نے فخر کا اظہار کیا۔
عوام کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دفاعی سائنسدان محدود وسائل کے باوجود جو کارنامے انجام دے رہے ہیں وہ قابل فخر ہیں اور آنے والی نسلیں ان پر ناز کریں گی۔
آگے کیا ہوگا؟
دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان آنے والے مہینوں میں مزید جدید میزائل اور دفاعی نظاموں کی آزمائش کرے گا۔ فتح-4 کی کامیابی کے بعد اب توقع ہے کہ اسے فوجی دستوں میں باقاعدہ طور پر شامل کر لیا جائے گا۔
پاکستان کی دفاعی پالیسی ہمیشہ سے “امن چاہو لیکن جنگ کے لیے تیار رہو” کے اصول پر مبنی رہی ہے اور فتح-4 کا یہ کامیاب تجربہ اسی پالیسی کا عملی اظہار ہے۔ مزید تازہ ترین دفاعی خبروں کے لیے Dawn News سے جڑے رہیں۔
یہ مضمون فتح-4 میزائل اعظم الشان ٹی وی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دفاعی اور قومی معاملات پر تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔






