جرمنی میں کرسمس کی تعطیلات کے دوران ایک غیر معمولی اور فلمی طرز کی بینک ڈکیتی نے سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مغربی جرمنی کے شہر گیلسن کرچن میں نامعلوم چوروں نے ایک بند بینک برانچ کو نشانہ بناتے ہوئے زیر زمین والٹ تک رسائی حاصل کر لی۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے بینک سے منسلک پارکنگ گیراج کی دیوار میں سوراخ کیا اور بھاری مشینری کی مدد سے موٹی کنکریٹ دیوار کو کاٹ کر بینک کے اندر داخل ہوئے۔ اس کے بعد چور زیر زمین سیف ڈپازٹ والٹ تک پہنچے جہاں موجود ہزاروں لاکرز کو توڑ دیا گیا۔
جھگڑے کے بعد شوہر نے اپنی بیوی کو آگ لگا دی، بیٹی بھی متاثر
ابتدائی معلومات کے مطابق تقریباً تین ہزار سے زائد سیف ڈپازٹ بکس متاثر ہوئے، جن میں نقد رقم، سونا اور قیمتی زیورات موجود تھے۔ حکام کا اندازہ ہے کہ چوری ہونے والے سامان کی مجموعی مالیت 10 ملین سے 90 ملین یورو کے درمیان ہو سکتی ہے، جو جرمنی کی تاریخ کی بڑی بینک ڈکیتیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ اس واردات کے لیے غیر معمولی مہارت، جدید آلات اور مکمل پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی عام واردات نہیں بلکہ منظم گروہ کی کارروائی ہے۔
واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب پیر کے روز بینک میں فائر الارم بجا، تاہم اب تک یہ تعین نہیں ہو سکا کہ چوری کس دن یا کس وقت انجام دی گئی۔ سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں ایک سیاہ رنگ کی آڈی آر ایس 6 گاڑی کو پارکنگ سے نکلتے دیکھا گیا، جس پر لگے نمبر پلیٹس بعد ازاں چوری شدہ ثابت ہوئیں۔
تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ دوسری جانب بینک کے درجنوں متاثرہ صارفین نے برانچ کے باہر جمع ہو کر انتظامیہ سے وضاحت اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
سرگودھا: مبینہ زیادتی کیس میں بیان بدلنے پر ملزمان بری، دو بہنوں کے خلاف مقدمہ درج







