ملتان (عقیل چوہدری) تھانہ بی زیڈ کے مختلف علاقوں میں آئے روز چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کے خلاف تاجر برادری نے ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس کی صدارت صدر مرکزی انجمن تاجران زکریا مارکیٹ، رانا ارشاد نے کی۔ اجلاس میں علاقے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور تاجروں کی غیر محفوظ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
رانا ارشاد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ بی زیڈ کی حدود میں دن دیہاڑے تاجروں کو لوٹا جا رہا ہے، اور پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں متعدد تاجر رہنماؤں اور شہریوں کے ساتھ ڈکیتی کی وارداتیں ہوئی ہیں، جن میں نہ صرف نقدی اور قیمتی اشیاء چھینی گئی بلکہ موٹر سائیکل اور موبائل فون بھی لوٹے گئے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تاجر رہنما چوہدری رشید کے ساتھ کھرل چوک پر ڈکیتی کی گئی، جس میں ان سے موبائل فون 40 ہزار روپے نقدی اور سی ڈی 70 موٹر سائیکل چھین لی گئی۔ اسی طرح ملک منیر آرائیں کے بھتیجوں کے ساتھ بھی ڈکیتی کی گئی، جس میں دو موبائل فون اور نقدی لوٹی گئی۔ اس کے علاوہ فہد، یوسف اور جنید کے ساتھ البشیر چوک پر بھی ڈکیتی کی وارداتیں پیش آئیں۔
رانا ارشاد نے مزید بتایا کہ علاقے میں چھ دکانوں کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کر لیا گیا، لیکن پولیس کی جانب سے مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس سو رہی ہے اور ڈکیت آزاد گھوم رہے ہیں، جو تاجر برادری اور علاقے کے عوام کے لیے باعث تشویش ہے۔
قادرپورراں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، مظہر حسین جاں بحق
اجلاس میں شریک دیگر رہنماؤں، بشمول ڈاکٹر غلام شبیر اور ملک منیر آرائیں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز کی چوری و ڈکیتی کی وارداتوں نے تاجروں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر موجودہ صورتحال میں وہ خود غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
اجلاس میں صدر رانا ارشاد، ڈاکٹر غلام شبیر اور ملک منیر آرائیں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ تھانہ بی زیڈ کے علاقوں میں فوری طور پر مؤثر پولیس گشت شروع کیا جائے اور وارداتوں میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ اور پولیس فوری اقدامات نہ کرے تو تاجر برادری احتجاج پر مجبور ہو جائے گی، اور اس کے نتائج انتظامیہ کے لیے سنگین ہوں گے۔
تاجر رہنماؤں نے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب، آر پی او اور سی پی او سے بھی فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہو سکتی ہے۔ رانا ارشاد نے زور دے کر کہا: “اگر حالات بہتر نہ ہوئے تودما دم مست قلندر ہوگا۔
اجلاس میں ملک رمضان سیال، چوہدری رشید، محمد اسحاق، ملک نواز آرائیں، قاسم بگٹی، چوہدری عثمان، سعد، پیرزادہ آصف شاہ، ملک عارف مہار، شاکر خان، شیخ عمران، حاجی عبدالعزیز، بلال کھاکھی، طارق عزیز، عمران بابر سیال، عمران سیال، چوہدری ناصر علی، ملک اسد عمیر سیال، ملک راشد، رانا عبد الرحمن، شہزاد علی شاہ، شہری، عجب گل خان، آخری خان، ڈاکٹر عبدالرزاق، ملک اسد عمران لغاری اور آصف بوہنہ سمیت متعدد تاجر رہنماؤں نے شرکت کی اور اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر اگر انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ عام شہری بھی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے۔ انہوں نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ فوری کارروائی کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا جائے، اور تاجروں کی ریکوری یقینی بنائی جائے۔
افغانستان میں خاتون صحافی کی گرفتاری، آزادیٔ صحافت مزید دباؤ کا شکار
رانا ارشاد نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اگر پولیس اور انتظامیہ اقدامات نہیں کرے گی تو تاجر برادری سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ تاجر برادری کے احتجاج کی تمام ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی، اور حکومت کو چاہیے کہ وہ علاقے میں امن و امان کی فوری بحالی کے اقدامات کرے۔
ڈاکٹر غلام شبیر اور ملک منیر آرائیں نے بھی کہا کہ آئے روز وارداتیں تاجر برادری اور عوام کے لیے باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، اور جرائم پیشہ عناصر آزادی کے ساتھ وارداتیں کرتے رہیں گے۔

اجلاس میں شریک تاجروں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ پولیس کو اپنی ذمہ داریاں پورے کریں اور عوام اور تاجروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، اور انتظامیہ اس کی تمام تر ذمہ داری اٹھائے گی۔
آخر میں اجلاس میں شریک تاجروں نے زور دے کر کہا کہ تھانہ بی زیڈ کے علاقوں میں فوری پولیس گشت اور جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف تاجروں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں بلکہ ملکی معیشت اور عام شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی اہم ہیں۔







