شبِ معراج ﷺ اسلامی تاریخ کا عظیم لمحہ

شبِ معراج ﷺ اسلام کی تاریخ کا وہ عظیم اور بے مثال واقعہ ہے جو 27 رجب المرجب کی بابرکت رات کو پیش آیا۔ یہ کوئی عام رات نہیں تھی، بلکہ وہ رات تھی جب اللہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایک ایسے سفر پر بلایا جو نہ اس سے پہلے کسی انسان کو نصیب ہوا اور نہ بعد میں کسی کو حاصل ہو سکا۔ یہ سفر حالتِ بیداری میں، جسمِ اطہر کے ساتھ ہوا، اور یہی بات اسے دیگر روحانی مشاہدات سے ممتاز کرتی ہے۔

اس وقت نبی کریم ﷺ کی عمر مبارک تقریباً اکیاون برس، آٹھ ماہ اور بیس دن تھی، اور یہ نبوت کا بارھواں سال تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مکہ میں مخالفت، اذیتیں اور آزمائشیں اپنے عروج پر تھیں، مگر اسی دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی، عزت اور قربِ خاص عطا فرمایا۔ واقعۂ معراج دراصل حضور ﷺ کے بلند مقام، عظیم شان اور ربِ کائنات کے خصوصی قرب کی روشن دلیل ہے۔

قرآنِ کریم نے اس عظیم واقعے کو نہ صرف محفوظ کر دیا بلکہ قیامت تک کے لیے حق اور صداقت کی گواہی بھی دے دی۔ سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ذات پاک ہے جو اپنے خاص بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گرد و نواح کو برکت دی گئی، تاکہ وہ اپنی عظیم نشانیاں دکھائے۔ یہاں لفظ “عبدہٗ” استعمال کر کے یہ واضح کر دیا گیا کہ نبی کریم ﷺ اپنے بلند ترین مقام پر بھی اللہ کے بندے ہی ہیں، اور یہی عبدیت ان کے کمال کی اصل بنیاد ہے۔

اس کے بعد سورۂ نجم میں معراج کے اس مرحلے کا ذکر ملتا ہے جہاں حضور ﷺ آسمانی بلندیوں تک پہنچے، سدرۃ المنتہیٰ کے قریب گئے، اور اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں دیکھیں جن کا تصور بھی انسانی عقل سے ماورا ہے۔ قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اس موقع پر نہ حضور ﷺ کی نگاہ جھپکی اور نہ ہی حد سے آگے بڑھی، بلکہ جو کچھ دیکھا، پورے شعور اور کامل ہوش کے ساتھ دیکھا۔

لیلہ کے معنی رات اور معراج کے معنی بلندی کے ہیں۔ یہ رات اس لیے تاریخِ انسانیت میں ممتاز ہے کہ اسی رات زمین اور آسمان کے فاصلے مٹ گئے، اور رسولِ اکرم ﷺ کو ربِ ذوالجلال کی قربت نصیب ہوئی۔ مفسرین کے مطابق مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کے سفر کو “اسرا” اور وہاں سے عرشِ بریں تک کے سفر کو “معراج” کہا جاتا ہے۔

یہ مبارک سفر مسجدِ حرام سے شروع ہوا، جہاں سے نبی کریم ﷺ کو براق پر سوار کر کے بیت المقدس لے جایا گیا۔ براق ایک نورانی اور تیز رفتار سواری تھی، جو پلک جھپکتے ہی فاصلے طے کر لیتی تھی۔ بیت المقدس میں تمام انبیائے کرامؑ جمع تھے، اور نبی کریم ﷺ نے ان کی امامت فرمائی۔ یہ منظر اس بات کی واضح دلیل تھا کہ حضور ﷺ تمام انبیاء کے امام اور سردار ہیں۔

اس کے بعد آسمانوں کا سفر شروع ہوا۔ ہر آسمان پر نبی کریم ﷺ کی ملاقات مختلف انبیائے کرامؑ سے ہوئی، جنہوں نے خوش آمدید کہا، دعائیں دیں اور آپ ﷺ کے مقام و مرتبے کی گواہی دی۔ یہ سفر صرف عزت اور تکریم کا نہیں تھا، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے عظیم نعمتوں کا ذریعہ بھی بنا۔

 

معراج کی سب سے بڑی عطا نماز ہے۔ ابتدا میں امت پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں، لیکن نبی کریم ﷺ کی شفقت اور امت سے محبت کے باعث یہ تعداد کم ہو کر پانچ رہ گئی۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے ان پانچ نمازوں کا اجر پچاس کے برابر ہی رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ نماز کو مومن کی معراج کہا جاتا ہے۔

اسی شب یہ اعلان بھی ہوا کہ شرک کے علاوہ تمام گناہوں کی معافی کا دروازہ کھلا ہے، نیکی کی نیت پر بھی اجر ملتا ہے اور نیکی پر عمل کرنے پر کئی گنا ثواب عطا کیا جاتا ہے، جبکہ گناہ کی نیت پر گرفت نہیں، البتہ عمل کی صورت میں ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور امتِ محمدیہ پر خصوصی فضل کی نشانیاں ہیں۔

واقعۂ معراج کے دوران اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھنے والے وہ اصول بھی عطا کیے گئے جو سورۂ بنی اسرائیل میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ اصول عدل، اخلاق، حقوق العباد اور اجتماعی ذمہ داریوں پر مبنی ہیں، جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔

واپسی کے سفر میں نبی کریم ﷺ دوبارہ بیت المقدس تشریف لائے، جہاں فرشتوں اور انبیائے کرامؑ نے آپ ﷺ کو رخصت کیا۔ یہ منظر بھی حضور ﷺ کے عظیم مقام اور اللہ کے نزدیک آپ ﷺ کی قدر و منزلت کا واضح ثبوت تھا۔

قرآن اور احادیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ معراج ایک حقیقی، جسمانی اور بیداری کا واقعہ تھا، کوئی خواب یا محض روحانی کیفیت نہیں۔ اگر یہ خواب ہوتا تو قرآن اس کی وضاحت ضرور کرتا۔

جرمنی میں کرسمس تعطیلات کے دوران فلمی انداز کی بڑی بینک ڈکیتی، کروڑوں یورو مالیت کا سامان غائب

شبِ معراج ہمیں آج بھی یہ پیغام دیتی ہے کہ نماز، اطاعتِ الٰہی، اخلاق اور اجتماعی نظم و ضبط ایک کامیاب اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔ معراج کی اصل روح اس کے مناظر میں نہیں بلکہ اس پیغام میں ہے جو ہمیں اللہ کے قریب اور ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے۔

اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیں، تو آج بھی فرد، معاشرہ اور ریاست سب سنور سکتے ہیں۔

Related Posts

دیر بالا اور دیر لوئر میں بارش، بالائی علاقوں میں برفباری کا آغاز
  • December 30, 2025

پشاور: مغربی موسمی…

Continue reading

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *