اب میں آپ کو بی بی سی اردو کی کوریج اور اس موضوع پر مکمل جائزہ پیش کرتا ہوں۔ واضح رہے کہ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ اس وقت براہِ راست قابلِ رسائی نہیں، تاہم بین الاقوامی ذرائع اور بی بی سی کی انگریزی رپورٹنگ کی بنیاد پر مکمل صورتحال یہاں بیان کی گئی ہے۔
ایران پر امریکی اسرائیلی حملے اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال
حملے کیسے شروع ہوئے؟
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کیے جن میں فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ حملے ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق جاری مذاکرات کے دوران کیے گئے۔ Wikipedia
امریکی اور اسرائیلی فوجوں نے 12 گھنٹوں میں تقریباً 900 فضائی حملے کیے جن میں ایران کے میزائل نظام، فضائی دفاع، فوجی انفراسٹرکچر اور قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی حملوں میں سپریم لیڈر خامنہ ای اور درجنوں دیگر عہدیدار مارے گئے، لیکن بندرعباس کے قریب مینب میں ایک بحری اڈے سے ملحق لڑکیوں کے اسکول پر میزائل گرنے سے تقریباً 170 افراد ہلاک ہوگئے۔ Encyclopedia Britannica
حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایران کئی برسوں میں اپنے کمزور ترین مرحلے میں تھا۔ ملک میں کمزور معیشت اور ڈھتی انفراسٹرکچر کے باعث 2026 کے اوائل میں وسیع مظاہرے ہوئے تھے جو طاقت کے بل پر دبا دیے گئے۔ اس کے علاوہ ایران کے علاقائی اتحادی، خاص طور پر حزب اللہ، پہلے ہی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے۔ House of Commons Library
ایران کی جوابی کارروائی
ایران نے اسرائیل، خطے میں امریکی اڈوں اور امریکہ کے خلیجی عرب اتحادیوں پر سینکڑوں ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغے، اور آبنائے ہرمز بند کردی جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی۔ میزائل اور ڈرون بحرین، اردن، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق کے کردستان تک پہنچے، اور آذربائیجان، ترکی اور قبرص میں برطانوی اکروتیری فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ Wikipedia
جانی اور مالی نقصان
5 مئی 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی اسرائیلی حملوں میں ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 3,468 افراد ہلاک ہوئے جن کی عمریں آٹھ ماہ سے 88 سال تک تھیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سات شیر خوار بچے، 376 بچے اور 496 خواتین شامل تھیں۔ 26,500 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیل میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور 7,791 زخمی ہوئے۔ Al Jazeera
اس تنازعے نے عالمی سفر اور تجارت کو فوری طور پر متاثر کیا، مشرق وسطیٰ سے آنے جانے والی پروازیں تقریباً مکمل طور پر بند ہوگئیں، اور جب دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈرون حملوں میں نقصان پہنچا تو وہ عارضی طور پر بند ہوگیا اور کئی دنوں تک محدود صلاحیت پر کام کرتا رہا۔ Encyclopedia Britannica
آبنائے ہرمز: عالمی تجارت پر بحران
آبنائے ہرمز 28 فروری 2026 سے ایران نے بند کردی۔ اس آبنائے سے دنیا کی 25 فیصد سمندری تیل تجارت اور 20 فیصد مائع قدرتی گیس گزرتی تھی۔ ایران کے انقلابی گارڈز نے تجارتی بحری جہازوں پر چڑھائی کی، حملے کیے اور آبنائے میں سمندری سرنگیں بچھائیں۔ Wikipedia
8 مئی 2026 کو امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج سے تبادلہ آتش کے بعد دو ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا اور انہیں ناکارہ کردیا۔ ایران نے مؤثر طریقے سے آبنائے بند کی ہوئی ہے جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کررہا ہے، جسے ایک تجزیہ نگار نے “دوہری ناکہ بندی” قرار دیا۔ NPR
سیز فائر اور اسلام آباد مذاکرات
8 اپریل 2026 کو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے، جس دوران مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔ House of Commons Library
اسلام آباد مذاکرات 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد سرینا ہوٹل میں منعقد ہوئے، جن میں پاکستان نے مصالحتی کردار ادا کیا، لیکن یہ مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے اور ان کے نتیجے میں امریکہ نے ایران پر بحری ناکہ بندی عائد کردی۔ Wikipedia
سیز فائر کے اعلان کے بعد ایران نے مختلف شرائط پیش کیں جن میں تمام پابندیاں اٹھانے اور خطے میں تمام امریکی اڈوں سے فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ شامل تھا۔ امریکی 15 نکاتی منصوبے میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ، میزائلوں پر حدود، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مسلح گروہوں کی حمایت ترک کرنا شامل تھا۔ House of Commons Library
پاکستان کا کردار
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک غیر متوقع لیکن ناگزیر ثالث بن کر ابھرا۔ اس نے اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی اور دونوں فریقوں کے درمیان تجاویز کا تبادلہ کروایا۔ Council on Foreign Relations
4 مئی کو پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اسلام آباد کی ثالثی کوششوں پر بات کی۔ اسی دن ایرانی کنٹینر شپ MV Touska کے 22 عملے کو پاکستان منتقل کیا گیا اور پھر ایران روانہ کیا گیا، جسے پاکستان نے دونوں فریقوں کے ساتھ مربوط اعتماد سازی کا اقدام قرار دیا۔ Al Jazeera
مئی 2026 میں موجودہ صورتحال
15 مئی 2026 تک آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی جاری ہے، ایک جہاز ضبط کیا گیا اور ایک ڈبو دیا گیا۔ عالمی سٹاک مارکیٹیں تیل کی قیمتوں کے خدشے سے متاثر ہو رہی ہیں۔ Encyclopedia Britannica
پاکستان کو امید ہے کہ اس کی ثالثی کوششیں جلد کسی پیش رفت تک پہنچیں گی کیونکہ ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ ترین تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جلد از جلد کسی معاہدے کی امید اور توقع ہے۔ NPR
بی بی سی اردو کی کوریج کے بارے میں: بی بی سی اردو کی ویب سائٹ اس وقت براہِ راست قابلِ رسائی نہیں تھی، اس لیے اوپر کی معلومات بین الاقوامی ذرائع (Al Jazeera، NPR، Britannica، ہاؤس آف کامنز لائبریری، ویکیپیڈیا) سے اخذ کی گئی ہیں۔ بی بی سی اردو کی تازہ ترین خبریں براہِ راست دیکھنے کے لیے bbc.com/urdu ملاحظہ کریں۔






