محسن نقوی کی ایرانی صدر سے اہم ملاقات، مذاکرات کیلیے امریکا کی 5 شرائط، ایران کے جوابی مطالبات

جب دنیا یہ سوچ رہی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ شاید کسی نئے فوجی ٹکراؤ میں بدل جائے، پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی خاموشی سے تہران پہنچے اور ثابت کردیا کہ اسلام آباد اس جنگ کا تماشائی نہیں، بلکہ فعال ثالث ہے۔

تہران میں 90 منٹ کی اہم ملاقات

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے 17 مئی 2026 کو تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ صدارتی محل میں یہ ملاقات 90 منٹ تک جاری رہی جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن کے لیے ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پاکستانی سفارتخانے کے مطابق محسن نقوی نے صدارتی محل میں مجموعی طور پر تین گھنٹے گزارے اور اس دوران ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی الگ ملاقات کی۔

یہ دورہ غیر اعلانیہ تھا اور اس کا مقصد بگڑتی ہوئی جنگ بندی کو بچانا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات تلاش کرنا تھا۔ ایرانی وزیرِ داخلہ نے ہوائی اڈے پر محسن نقوی کا استقبال کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

امریکا کی 5 شرائط جو میز پر رکھی گئیں

ذرائع اور ایرانی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے پہلے ایران کے سامنے پانچ اہم شرائط رکھی ہیں:

پہلی شرط یہ ہے کہ ایران تقریباً 400 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم امریکا کو منتقل کرے، جو جون 2025 کے اسرائیل امریکا مشترکہ حملوں میں ایرانی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ملبے تلے دبا ہوا ہے اور جس سے تقریباً 10 جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ایران صرف ایک جوہری تنصیب فعال رکھنے پر آمادہ ہو۔ تیسری شرط امریکا کی یہ ہے کہ وہ ایران کو کوئی جنگی ہرجانہ یا معاوضہ نہیں دے گا۔ چوتھی شرط میں بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال نہ کرنے کی تجویز شامل ہے۔ پانچویں اور آخری شرط یہ ہے کہ جنگ بندی کو مستقبل کے مذاکرات سے مشروط رکھا جائے، یعنی امریکا اپنا فوجی دباؤ قائم رکھنا چاہتا ہے۔

یہ شرائط انتہائی سخت ہیں اور ان میں ایران کو کسی عملی فائدے کی گنجائش بہت کم ہے، جو یہ بتاتی ہیں کہ واشنگٹن ابھی بھی مذاکرات کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے۔

ایران کے جوابی مطالبات

ایران نے بھی واضح مؤقف اختیار کیا ہے اور خالی ہاتھ کوئی معاملہ طے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ تہران کے جوابی مطالبات میں سب سے اہم یہ ہے کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران، لبنان اور تمام محاذوں پر مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ایران تمام اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی، اور جنگی نقصانات کا معاوضہ مانگ رہا ہے۔ اہم ترین مطالبہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، جو فروری 2026 سے بند ہے اور جس سے عالمی تیل تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے صراحت سے کہا ہے کہ امریکا نے ماضی میں مذاکرات کے دوران دو بار حملے کیے، اس لیے ان کی سنجیدگی پر بداعتمادی فطری ہے۔

نئی تجاویز کا تبادلہ نہیں ہوا، لیکن پیغام پہنچ گیا

جنگ اخبار کے مطابق محسن نقوی کے تہران دورے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کسی نئی تجویز کا باضابطہ تبادلہ نہیں ہوا، تاہم ایران نے امریکا کی پانچ نکاتی تجاویز پر اپنا غیر رسمی مؤقف پاکستان کے توسط سے پہنچا دیا ہے۔ محسن نقوی اسلام آباد واپس پہنچنے کے بعد قیادت کو تہران ملاقاتوں کے نتائج سے آگاہ کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 9 سے 11 مئی کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار رہے تھے۔ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں بھی مکمل بتائی جاتی ہیں جن کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جا چکے ہیں۔

پاکستان کا کردار اور آگے کی راہ

پاکستان اس پورے بحران میں ایک غیر متوقع لیکن کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ذاتی کوششیں دونوں ممالک کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں مددگار ہیں۔ امریکی چارج ڈی افیئرز نٹالی بیکر نے بھی پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق کے مطالبات ابھی اتنے دور ہیں کہ کسی فوری معاہدے کی امید رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں لگتا۔ امریکا دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے، ایران شرائط پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، اور اسرائیل لبنان سمیت تمام محاذوں پر اپنی شرائط الگ رکھ رہا ہے۔

اس پس منظر میں محسن نقوی کا تہران دورہ کوئی سفارتی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ابھی ہمت نہیں ہارا اور وہ آگ اور برف کے بیچ میں ایک ایسی راہ تلاش کر رہا ہے جو شاید دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *