ایک وقت تھا جب کسی قوم کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا تھا کہ اس نے کتنے فلسفی پیدا کیے، کتنے ادیب، کتنے سائنسدان۔ آج معیار بدل گیا ہے۔ اب کسی سماج کی فکری سطح جاننی ہو تو بس اس کا ٹرینڈنگ سیکشن کھول لیجیے۔ اسکرین پر جو چہرہ سب سے اوپر نظر آئے، وہی اس قوم کا آئینہ ہے۔
اور یہ آئینہ اکثر بہت تکلیف دہ تصویر دکھاتا ہے۔
اسکین پر وائرل ہونا ہی سماج کی کامیابی ہے؟
ہم نے گزشتہ چند برسوں میں ایک انوکھا سماجی معاہدہ کر لیا ہے، وہ یہ کہ جو زیادہ دکھائے وہ زیادہ اہم ہے۔ نجی زندگی کی نمائش، بازاری جملے، ذومعنی مکالمے اور بے لگام ری ایکشنز، یہ سب کچھ آج ”کنٹینٹ” کا درجہ پا چکا ہے اور اس کنٹینٹ کے پیچھے لاکھوں کی تعداد میں وہ لوگ بھاگتے ہیں جو کل تک شاید کسی مدرسے، کالج یا گھر کی تربیت کے زیرِاثر تھے۔
سوشل میڈیا نے شہرت کو عام آدمی کی دسترس میں ضرور دے دیا، یہ اس کا ایک مثبت پہلو ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس نے معیار کا گلا بھی گھونٹ دیا۔ الگورتھم کسی خبر کو، کسی تحریر کو، کسی گہرے خیال کو اس وقت نہیں پھیلاتا جب تک وہ ”اینگیجمنٹ” نہ دے۔ اور اینگیجمنٹ کا سب سے آسان ذریعہ ہے: غصہ، تماشا، اور ابتذال۔
پیسہ کمانا عظمت کا ثبوت نہیں
جب کبھی اس ابتذال پر بات ہو تو فوراً ایک دلیل سامنے آتی ہے کہ فلاں یوٹیوبر نے کروڑوں کمائے، فلاں وی لاگر نے پاکستان میں ڈالر لائے، تو پھر سماج انہیں برا کیوں نہیں کہتا ہے؟
یہ دلیل سن کر ایک لمحے کو دل چاہتا ہے کہ پوچھیں، کیا رزق کمانے کا ہر ذریعہ قابلِ فخر بھی ہوتا ہے؟ کیا صرف پیسے کی موجودگی کسی کے کردار یا کنٹینٹ کو درست ثابت کر دیتی ہے؟ دنیا میں بہت سے ایسے پیشے ہیں جن سے آمدنی تو ہوتی ہے لیکن جنہیں سماج نے کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کس راستے سے؟ اور کیا چیز بیچ کر؟
جب ہم کسی کے سطحی، مبتذل یا اخلاق باختہ کنٹینٹ کو صرف اس لیے قبول کر لیں کہ اس سے ”معیشت کو فائدہ” ہو رہا ہے، تو ہم دراصل اخلاقی زوال کو جی ڈی پی میں شامل کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ معیشت کی کامیابی نہیں، ضمیر کی شکست ہے۔
مصنوعی شعور کا زمانہ
ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے، وہ ہے ”شعور” کی آڑ میں بکنے والا جذباتی ہیجان۔ برسوں سے ہمیں بتایا جاتا رہا کہ سوشل میڈیا نے سماج کو بیدار کر دیا ہے، فکری سطح بلند ہو گئی ہے، نوجوان نسل اب ”جاگ گئی” ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جاگنے کا اظہار دلیل کی بجائے نعرے میں، مطالعے کی بجائے ٹویٹ میں، اور سمجھنے کی بجائے ری ایکشن میں ہوتا ہے۔
دلیل کی جگہ جذبات نے لے لی۔ سوال پوچھنے کی بجائے اتفاق یا اختلاف کے ٹھپے لگائے جانے لگے۔ ایک پوری نسل نے ”بولنا” تو سیکھ لیا لیکن ”سوچنا” بھول گئی۔ یہ شعور نہیں، شور ہے۔ اور شور کبھی فکر کا متبادل نہیں بن سکتا۔
اجتماعی ذوق کا سوال
کوئی بھی فرد اکیلے ذمہ دار نہیں ہوتا۔ وی لاگر بناتا وہی ہے جو دیکھا جاتا ہے، یوٹیوبر وہی کہتا ہے جو سنا جاتا ہے، ٹرینڈ وہی بنتا ہے جسے لوگ پھیلاتے ہیں۔ اصل سوال ناظرین پر اٹھتا ہے، اس لاکھوں کی بھیڑ پر جو ہر روز ان چینلز کو سینچتی ہے، لائکس دیتی ہے، شیئر کرتی ہے اور اپنے بچوں کے سامنے کھول کر رکھتی ہے۔
جو معاشرہ ذہانت پر سطحیت کو، علم پر شور کو اور کردار پر تماشے کو ترجیح دے، اس کا اجتماعی شعور رفتہ رفتہ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ نہ کسی دھماکے سے، نہ کسی اعلان سے، بس ہر روز چند منٹ کی اس بے مقصد اسکرول سے جو انسان کو کچھ دیتی نہیں، بس وقت، توجہ اور ذوق چراتی جاتی ہے۔
راستہ کیا ہے؟
یہ کہنا آسان ہے کہ سوشل میڈیا چھوڑ دو۔ یہ ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ہم جو دیکھتے ہیں، جو سنتے ہیں اور جو شیئر کرتے ہیں، اس میں ذرا ٹھہر کر سوچیں۔ کیا یہ کنٹینٹ کچھ دے رہا ہے یا صرف لے رہا ہے؟ کیا اس سے ذہن کھلا یا بند ہوا؟ کیا اس سے ہم کچھ بہتر ہوئے یا تھوڑا اور بدتر؟
سوشل میڈیا آلہ ہے، قصہ ہمارے انتخاب کا ہے۔ اور اجتماعی شعور کبھی الگورتھم سے نہیں بدلتا، وہ بدلتا ہے ایک ایک انسان کے اس فیصلے سے کہ آج وہ کیا پڑھے گا، کیا دیکھے گا اور کیا اگلی نسل کو دے کر جائے گا






