ٹرمپ کا ایران پر حملہ مؤخر | امریکا ایران کشیدگی میں نیا موڑ
امریکا ایران کشیدگی اس وقت ایک انتہائی نازک اور فیصلہ کن موڑ پر آ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر منگل کو کیا جانے والا طے شدہ فوجی حملہ آخری لمحات میں مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ خلیجی ممالک کے سربراہان کی ذاتی سفارش اور پاکستان کی پسِ پردہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔
خلیجی رہنماؤں کی فیصلہ کن سفارت کاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر منگل کو حملہ طے کر لیا تھا، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان نے کہا کہ فوری حملہ نہ کریں۔ ان تینوں رہنماؤں نے ٹرمپ کو یقین دلایا کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک قابل قبول معاہدے کا امکان موجود ہے۔ امریکا ایران کشیدگی کو کم کرنے میں یہ خلیجی سفارت کاری ایک تاریخی کردار ادا کر رہی ہے۔
پاکستان کا اہم سفارتی کردار
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا اور وہ پاکستانی شخصیات ایران کے بہت زیادہ قریب ہیں جنہوں نے ٹرمپ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ ابھی اس حملے سے رک سکتے ہیں تو ہم آپ کی ایران کے ساتھ ڈیل کرا دیں گے۔ یہ انکشاف پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور امریکا ایران کشیدگی میں پاکستان کے مثبت کردار کو نمایاں کرتا ہے۔
ٹرمپ کی فوج کو تیاری کا حکم برقرار
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ عرب قائدین کے احترام میں سیکریٹری جنگ پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو کل کا حملہ روکنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاہم امریکی فوج کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی قابل قبول معاہدہ طے نہ پا سکا تو وہ کسی بھی لمحے ایران پر فوری اور بڑے پیمانے پر بھرپور حملے کے لیے بالکل تیار رہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران کشیدگی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نازک توازن پر قائم ہے۔
معاہدے کی بنیادی شرط
صدر ٹرمپ کے بقول ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکا، مشرق وسطیٰ اور دیگر متعلقہ ممالک کے لیے قابل قبول ہوگا جس کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ یہ شرط امریکا ایران کشیدگی کی جڑ میں موجود ہے کیونکہ امریکا اور اسرائیل دونوں ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ Express News
ایران کا موقف
امریکی صدر نے ایران سے متعلق کہا کہ ہر بار جب وہ ڈیل کرتے ہیں تو اگلے روز ایسا لگتا ہے کہ ہماری بات چیت ہوئی ہی نہیں اور ایران کے مسئلے کا حل بات چیت کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کا دفاع جاری رکھا ہے۔ امریکا ایران کشیدگی میں یہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان گہرے عدم اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
طوفان سے پہلے کی خاموشی؟
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے اور ایران کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکا ایران کشیدگی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔ خطے میں امن کے لیے یہ سفارتی کوششیں انتہائی اہم ہیں اور ہر لمحہ فیصلہ کن ہے۔ Aaj TV
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ تازہ ترین خبریں
بیرونی ذریعہ: Jang News: Trump Iran







