یوکرین روس جنگ | کا نیا باب 600 ڈرونز سے تاریخ کا سب سے بڑا حملہ
یوکرین روس جنگ ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی جب یوکرین نے روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کرتے ہوئے تقریباً 600 ڈرونز سے روسی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اس وقت اور بھی اہمیت اختیار کر گیا جب امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہونے کے صرف چند روز بعد کیا گیا جس سے پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
حملے کی مکمل تفصیل
یوکرین نے روس پر اب تک کے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک کرتے ہوئے تقریباً 600 ڈرونز سے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ یوکرین روس جنگ کی تاریخ میں یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے جس نے ثابت کیا کہ یوکرین کی جنگی صلاحیت اب بھی بہت مضبوط ہے اور وہ روس کو گہرے نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے۔
روس کا دفاعی دعویٰ
روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انہوں نے رات بھر اور اتوار کی صبح کے دوران 14 مختلف روسی علاقوں، الحاق شدہ کریمیا، اور بحیرہ اسود و بحیرہ ازوف کے اوپر مجموعی طور پر 586 یوکرینی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا۔ اس کے باوجود یوکرین روس جنگ میں یوکرین کے کئی ڈرون اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور روسی سرزمین پر تباہی مچائی۔
ماسکو میں نقصانات
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے بتایا کہ کچھ ڈرونز آئل اینڈ گیس ریفائنری کے قریب تعمیراتی مقام پر گرے جہاں کارکن زخمی ہوئے تاہم ریفائنری کی پیداوار متاثر نہیں ہوئی اور حملوں میں تین رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بھارتی شہری بھی شامل تھا جو روس میں بطور مزدور کام کر رہا تھا۔ یوکرین روس جنگ کے یہ اثرات اب تیسرے ممالک کے شہریوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
زیلنسکی کا موقف
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر جائز قرار دیا اور کہا کہ یہ یوکرینی شہروں پر مسلسل روسی جارحیت کا منہ توڑ جواب ہے جس کے ذریعے روس کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اس جنگ کو ختم کرے۔ یوکرین روس جنگ میں زیلنسکی کا یہ موقف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یوکرین کسی بھی قیمت پر اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
جنگ بندی کا خاتمہ اور نئی کشیدگی
یہ حملہ 9 اور 11 مئی کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والی ایک مختصر جنگ بندی کے خاتمے کے چند دن بعد ہوا جو روس کے یوم فتح کی یادگاروں اور قیدیوں کے تبادلے سے منسلک تھا جس کے بعد ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے پر بار بار خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔ یوکرین روس جنگ میں یہ جنگ بندی کا ناکام ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں فریق ابھی کسی پائیدار امن معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
روس کا جوابی حملہ
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے بھی 287 ڈرونز کے ساتھ یوکرین پر حملہ کیا جن میں سے زیادہ تر تباہ کر دیے گئے تاہم کچھ ڈرون اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جس سے 9 افراد زخمی ہوئے۔ یوکرین روس جنگ اب ڈرون حملوں کی ایک ایسی دوڑ بن چکی ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ Aaj TV
آگے کیا ہوگا؟
دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تاحال ناکام دکھائی دے رہی ہیں جبکہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی بھی ختم ہوچکی ہے اور اس کے بعد روس اور یوکرین نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اس یوکرین روس جنگ کے نتائج کے بارے میں فکرمند ہیں کیونکہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور امن و امان پر بہت گہرے پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت پوری دنیا یہ چاہتی ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں اور اس خونریز جنگ کا جلد از جلد خاتمہ کریں۔ Express News
مزید پڑھیں: عالمی تازہ ترین خبریں
بیرونی ذریعہ: Express News: Ukraine Russia






