انمول پنکی کیس | ایک عام لڑکی سے ڈرگ کوئین تک کا سفر
انمول پنکی کیس نے پاکستان کے بڑے شہروں میں پھیلے منشیات کے خطرناک نیٹ ورک کی ایسی تصویر سامنے رکھی ہے جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کیس صرف ایک خاتون کی گرفتاری کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے اداروں کے اندر موجود کمزوریوں اور بااثر حلقوں کے ساتھ گہرے تعلقات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
کون ہے انمول پنکی؟
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پنکی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز اسکول سہراب گوٹھ کراچی سے حاصل کی اور ماڈلنگ اور اداکاری کے شوق میں 2006 میں لاہور شفٹ ہوئی اور پنکی کے مطابق سابق شوہر نے اسے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا اور اسی کے ذریعے گروپ ممبران سے ملاقات ہوئی۔ انمول پنکی کیس کی ابتدا یہیں سے ہوئی جب ایک خواب دیکھنے والی لڑکی غلط راستے پر چل نکلی۔
پندرہ سال تک گرفتاری کیوں نہ ہوئی؟
ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی پر اب تک 15 مقدمات درج ہیں جن میں سے 10 مقدمات پہلے ہی درج تھے لیکن اتنے مقدمات کے باوجود پنکی کی گرفتاری کیوں نہ ہوئی اس حوالے سے متضاد باتیں اور متضاد چیزیں سامنے آ رہی ہیں اور اس کیس کو جس اینگل سے بھی دیکھیں اس میں پولیس کی غفلت ہی نہیں بلکہ ملی بھگت نظر آتی ہے۔ انمول پنکی کیس کا یہ پہلو سب سے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ یہ سوال پوری قوم پوچھ رہی ہے۔
خطرناک نیٹ ورک کا انکشاف
اس کے موبائل فون سے ملنے والے 869 نمبرز، کراچی کے 132 رابطے، درجنوں کیریئرز، خواتین رائیڈرز، بینک اکاؤنٹس، سوشل میڈیا نیٹ ورک اور بڑے شہروں تک پھیلی سپلائی چین نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ کوئی عام اسٹریٹ کرائم نہیں بلکہ ایک مکمل ڈرگ کارٹیل تھا۔ انمول پنکی کیس میں یہ انکشاف سب سے چونکا دینے والا ہے کہ تین خواتین کو مبینہ طور پر 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا تھا۔
خاندان بھی ملوث
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے 3 بھائی ریاض بلوچ، محمد ناصر اور شوکت بخش منشیات فروشی میں ملوث ہیں اور شوکت بخش منشیات فروشی کے لیے خاص کارندہ ہے۔ انمول پنکی کیس میں یہ پہلو سامنے آنے کے بعد واضح ہو گیا کہ یہ ایک خاندانی کاروبار کی شکل اختیار کر چکا تھا جس میں کئی قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے۔
عدالت میں ہنگامہ
ملزمہ نے پولیس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی تھی اور چھ آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لائے اور پھر مجھ سے زور زبردستی سے سیاسی اور دیگر لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں۔ انمول پنکی کیس میں اس ہنگامہ آرائی کے بعد مقدمے کی سماعت عدالت سے جیل منتقل کر دی گئی۔
بائیس مئی تک ریمانڈ
آزاد خان نے کہا کہ دو دن میں ملزمہ پنکی سے تفتیش ہوئی ہے اور ملزمہ پنکی کے خلاف 20 مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں 6 مقدمات ختم ہوچکے ہیں اور 9 کیسز نیٹ ورک کے خلاف ہیں۔ عدالت نے انمول پنکی کیس میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے تاکہ تفتیش مکمل کی جا سکے۔
آگے کیا ہوگا؟
انمول پنکی کیس میں شامل چار افراد کے نام پی ایل آئی ایل میں شامل کرنے کے لیے خط متعلقہ حکام کو ارسال کیا گیا جس میں انمول عرف پنکی کے دونوں سابق شوہر ناصر علی اور پولیس افسر اکرم کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی سفارش کی گئی۔ انمول پنکی کیس پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ قوم کی نظریں اس کیس پر لگی ہیں اور سب چاہتے ہیں کہ انصاف ہو اور اس نیٹ ورک کے تمام کردار قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں۔ Express News
مزید پڑھیں: پاکستان کی تازہ ترین خبریں
بیرونی ذریعہ: Jang News: Anmol Pinki Case






