فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں | ایران امریکہ جنگ ختم کرانے کی تاریخی کوشش
اسلام آباد/تہران — پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 22 مئی 2026 کو تہران پہنچ گئے جہاں انہوں نے ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے تصدیق کی کہ فیلڈ مارشل منیر کا استقبال ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر ممنی نے کیا۔ یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے سلسلے میں ہے جن میں پاکستان ثالثی کا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
پس منظر: 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی اور پورے خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ اس صورتحال میں پاکستان آگے آیا اور 8 اپریل 2026 کو جنگ بندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں 11 اور 12 اپریل کو 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی بار اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔
فیلڈ مارشل منیر کا یہ تہران کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی تہران میں موجود ہیں جو ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کا فریم ورک تیار کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل منیر ایک ڈرافٹ حتمی معاہدہ لے کر تہران گئے ہیں جس پر بات چیت جاری ہے۔
سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکی بھی اس ثالثی عمل میں شریک ہیں۔ چین اور پاکستان نے 31 مارچ 2026 کو ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا تھا۔ خبر رساں ادارے Axios کے مطابق صدر ٹرمپ گزشتہ چند روز سے غیر صبری ہو رہے ہیں اور اگر ایران کی جانب سے واضح جواب نہ آیا تو ایک آخری بڑے فوجی آپریشن کا اندیشہ ہے۔
ایران نے پاکستان کو منفرد اعتماد کی جگہ دی ہے۔ تہران میں پاکستانی سفیر رضا امیری مقدم نے بتایا کہ “ہم صرف پاکستان میں بات کریں گے کیونکہ ہمیں پاکستان پر بھروسہ ہے۔” پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے اسرائیل سے کوئی تعلقات نہیں جس کی وجہ سے تہران اسلام آباد پر اعتماد کرتا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ روبیو نے فیلڈ مارشل منیر کے ساتھ اپنی مسلسل ٹیلی فون گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “ہم مسلسل ان سے رابطے میں ہیں۔” جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا ہے اور اسے خطے میں امن کی کلید قرار دیا ہے۔ یہ سفارتی کامیابی پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان دے رہی ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے ایران امریکہ مذاکرات اور پاکستان کا کردار پڑھیں اور ٹرمپ کے پاکستان دورے کے بارے میں بھی جانیں۔ Al Jazeera کی مکمل رپورٹ یہاں دیکھیں۔