ٹرمپ کا پاکستان دورہ | خطے کی سیاست میں نیا موڑ
پچھلے کچھ ہفتوں میں پاکستان کی سیاسی اور سفارتی دنیا میں ایک ایسی خبر نے طوفان برپا کر دیا جس کا کسی کو شاید کچھ عرصہ پہلے تک یقین بھی نہیں آتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان آنے کے امکانات اس وقت پوری دنیا کے میڈیا پر زیر بحث رہے اور پاکستانیوں کے لیے یہ خبر کسی بڑے سرپرائز سے کم نہیں تھی۔ آخری بار کوئی امریکی صدر پاکستان 2006 میں آیا تھا جب جارج ڈبلیو بش نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور اس وقت افغانستان میں جنگ اپنے عروج پر تھی۔ اب اگر ٹرمپ آتے تو یہ 20 سال بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہوتا۔
جو اطلاعات سامنے آئیں ان کے مطابق ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو چین کا دورہ کرنے والے تھے اور اس سے پہلے وہ چند گھنٹوں کے لیے پاکستان رک سکتے تھے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نور خان ایئر بیس پر ان کی اہم ملاقاتیں ہو سکتی ہیں۔ یہ دورہ صرف ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا کیونکہ پاکستان ان دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے شرکت کی تھی اور یہ 2011 کے بعد کسی امریکی نائب صدر کا پہلا دورہ پاکستان تھا۔
تاہم معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کا پاکستان دورہ اچانک منسوخ کر دیا۔ ٹرمپ نے خود میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ اس لیے منسوخ کیا گیا کیونکہ سفر بہت طویل تھا اور 16 سے 17 گھنٹے لگتے جبکہ دیگر اہم کام بھی موجود تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دورے کی منسوخی کا مطلب جنگ کا دوبارہ آغاز نہیں ہے اور مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ مزید پڑھیں: ٹرمپ کا وٹکوف اور کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان
اس پوری صورتحال میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان اب کسی ایک قوت کا پچھواڑا نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران جیسے دو متحارب ملکوں کے درمیان ثالث بننا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ملک کو معاشی اور سفارتی فوائد حاصل کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ان مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا ہے۔ تفصیلی تجزیہ یہاں پڑھیں: پاکستان کا ثالثی کردار اور ایران امریکہ مذاکرات
اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ آئندہ پاکستان آئیں گے؟ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران امریکہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور پاکستان اس میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے تو ٹرمپ کے پاکستان دورے کا امکان بالکل رد نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ ان دنوں جنوبی ایشیا کی سیاست کو نئے سرے سے دیکھ رہا ہے اور پاکستان اس پوری تصویر میں ایک اہم جگہ رکھتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پہلے کے مقابلے میں بہتر نظر آ رہے ہیں۔
ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے عالمی اثرات بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ جب بھی ان دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں چڑھ جاتی ہیں اور جب مذاکرات کی خبریں آتی ہیں تو قیمتیں نیچے آتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے جو تیل درآمد کرتا ہے یہ فرق بہت معنی خیز ہے۔ اس لیے پاکستان کی حکومت ان مذاکرات میں اپنا کردار بڑھانے میں پوری سنجیدگی سے لگی ہوئی ہے۔ مزید معلومات کے لیے: امریکہ ایران مذاکرات اور پاکستان کا کردار
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ وقت پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے۔ عوام کی نظریں اسلام آباد پر لگی ہیں اور دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ پاکستان اس مشکل لیکن اہم کردار کو کس طرح نبھاتا ہے۔ ٹرمپ آئیں یا نہ آئیں لیکن یہ بات طے ہے کہ پاکستان اب خطے کی سیاست میں ایک نئی اور اہم پوزیشن حاصل کر چکا ہے جسے نظرانداز کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔






