اسٹیٹ بینک نے بینکوں پر جرمانے لگا کر اربوں کما لیے، نام اور خلاف ورزیاں عوام سے چھپا لی گئیں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2026 کے دوران ضابطوں کی خلاف ورزی پر بینکوں اور مالیاتی اداروں پر مجموعی طور پر 1 ارب 58 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کے تازہ ترین سالانہ مالیاتی گوشوارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جرمانے کن اداروں پر ہوئے اور ان سے کون سی خلاف ورزیاں سرزد ہوئیں۔

کن خلاف ورزیوں پر جرمانے ہوئے؟

زیادہ تر خلاف ورزیوں کا تعلق فارن ایکسچینج کے ضوابط، کسٹمر ڈیو ڈیلیجنس، “اپنے صارف کو جانیں” (KYC) کے تقاضوں، منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے قوانین اور بینکوں کے عمومی آپریشنز سے تھا۔

پہلے نام بتائے جاتے تھے، اب نہیں

اسٹیٹ بینک اس سے پہلے ہر سہ ماہی میں اپنی انفورسمنٹ کارروائیوں کی تفصیل جاری کرتا تھا، جس میں متعلقہ بینکوں کے نام، ان کی خلاف ورزیاں اور اصلاحی اقدامات شامل ہوتے تھے۔ تاہم مرکزی بینک نے اب یہ تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنا بند کر دی ہیں، جس سے بینکنگ شعبے میں ضابطوں کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عوام کی معلومات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔

صارفین کی شکایات برقرار

معلومات کی اس کمی کے ساتھ ساتھ بینکنگ خدمات کے بارے میں شکایات بھی بدستور موجود ہیں۔ صارفین سروس کے معیار پر تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، جبکہ ٹیلی کام شعبے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے متعارف کردہ سروس کوالٹی فریم ورک جیسا کوئی عوامی پیمانہ بینکوں کے لیے دستیاب نہیں۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بینکوں کی جانب سے زائد چارجز وصول کرنے، صارفین کو خدمات سے انکار اور دیگر سروس سے متعلق مسائل کی نگرانی کتنی مؤثر ہے۔ سروس کے معیار کو جانچنے کے لیے واضح عوامی نظام نہ ہونے سے صارفین کے تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

یہ پڑھیں سونا رکنے کا نام نہیں لے رہا! مسلسل تیسرے دن مہنگا

گزشتہ سال کے مقابلے میں

مالی سال 2025 میں اسٹیٹ بینک نے ضابطوں کی خلاف ورزیوں اور تعمیل میں ناکامی پر بینکوں پر 2 ارب روپے سے زائد کے جرمانے کیے تھے۔ وصول ہونے والے جرمانے مرکزی بینک کی آمدن کا حصہ بنتے ہیں۔

لائسنسنگ فیسوں سے بھی بڑی آمدن

دوسری جانب مالی سال 2026 میں اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں سے وصول کی گئی لائسنسنگ اور آپریشنل فیسوں سے 1 ارب 90 کروڑ روپے سے زائد کمائے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔

Related Posts