ایم جی ایچ ایس سپر ہائبرڈ: برطانیہ میں بہترین پلگ ان ہائبرڈ کا اعزاز جیتنے والی گاڑی اب پاکستان میں

پیٹرول کے خرچے سے نجات؟ ایم جی کی ایچ ایس اور زیڈ ایس ہائبرڈ گاڑیاں پاکستان میں آ گئیں

بزنس (ویب ڈیسک )پاکستان میں پیٹرول کے بڑھتے اخراجات، روزمرہ سفر کی ضروریات اور نئی ٹیکنالوجی کی کشش نے گاڑی خریدنے والوں کی سوچ بدل دی ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ پیٹرول گاڑی لی جائے یا الیکٹرک۔ اصل سوال یہ ہے کہ بجلی اور پیٹرول کا کون سا امتزاج آپ کے روزمرہ معمول کے سب سے قریب بیٹھتا ہے۔

اسی رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے ایم جی پاکستان نے اپنی آل نیو ایم جی ایچ ایس اور آل نیو ایم جی زیڈ ایس رینج پیش کی ہے۔ دونوں گاڑیوں میں “ہائبرڈ پلس” ٹیکنالوجی دی گئی ہے، جبکہ ایچ ایس میں اس کے ساتھ “سپر ہائبرڈ” یعنی پلگ ان ہائبرڈ نظام بھی دستیاب ہے۔ یوں خریدار کے پاس بجلی کو ترجیح دینے والی ڈرائیونگ کے دو الگ راستے موجود ہیں، جو ان کے معمول اور چارجنگ کی سہولت پر منحصر ہیں۔

ہائبرڈ پلس: بغیر پلگ والی ہائبرڈ ٹیکنالوجی

جو ڈرائیور بجلی کے فوائد تو چاہتے ہیں مگر گھر یا دفتر میں چارجنگ کا جھنجھٹ نہیں پالنا چاہتے، ان کے لیے ایچ ایس ہائبرڈ پلس اور زیڈ ایس ہائبرڈ پلس “سیلف چارجنگ” نظام کے ساتھ آتی ہیں۔ یعنی گاڑی کی بیٹری خود گاڑی ہی چارج کرتی ہے اور آپ کو پیٹرول پمپ کے علاوہ کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔

ایم جی ایچ ایس ہائبرڈ پلس

کمپنی کی پروڈکٹ تفصیل کے مطابق اس میں 146 کلوواٹ کی الیکٹرک موٹر کے ساتھ 105 کلوواٹ کا پیٹرول انجن لگایا گیا ہے۔ نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کم رفتار پر زیادہ تر الیکٹرک پاور استعمال ہو اور ضرورت پڑنے پر پیٹرول انجن مدد کرے۔ اس میں 1.83 کلوواٹ آور کی بیٹری موجود ہے، جو بریک لگاتے وقت ضائع ہونے والی توانائی کو ریجنریٹو بریکنگ کے ذریعے محفوظ کر کے خود کو چارج کرتی رہتی ہے۔

ایم جی ہائبرڈ گاڑیاں

ایم جی زیڈ ایس ہائبرڈ پلس

یہی بجلی کو ترجیح دینے والی سوچ بی سیگمنٹ ایس یو وی میں زیڈ ایس ہائبرڈ پلس کے ذریعے پیش کی گئی ہے۔ اس کے ایکسائٹ اور ایسنس ویریئنٹس میں 1.5 لیٹر ہائبرڈ سسٹم اور تھری اسپیڈ ہائبرڈ ٹرانسمیشن دی گئی ہے۔ کمپنی کے دعوے کے مطابق دونوں مل کر مجموعی طور پر 158 کلوواٹ پاور اور 465 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ جو لوگ ہائبرڈ کی کارکردگی کا مزہ لینا چاہتے ہیں مگر ایندھن اسی طرح ڈلوانا چاہتے ہیں جیسے ہمیشہ ڈلواتے آئے ہیں، ان کے لیے یہ دونوں گاڑیاں ہائبرڈ دنیا میں داخل ہونے کا آسان راستہ ہیں۔

سپر ہائبرڈ: جب بڑی بیٹری فرق ڈالتی ہے

ایم جی ایچ ایس سپر ہائبرڈ ان لوگوں کے لیے ہے جو زیادہ سے زیادہ سفر صرف بجلی پر کرنا چاہتے ہیں۔ سیلف چارجنگ ہائبرڈ کے برعکس یہ پلگ ان ہائبرڈ ہے، یعنی اس کی بیٹری کو باہر سے بجلی لگا کر بھی چارج کیا جا سکتا ہے۔

اس میں 24.7 کلوواٹ آور کی بڑی بیٹری دی گئی ہے، جس کے بارے میں NEDC ٹیسٹ سائیکل کے تحت 135 کلومیٹر تک الیکٹرک رینج کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ حقیقی رینج ڈرائیونگ کے انداز، رفتار، راستے کی ہمواری، موسم اور اے سی کے استعمال جیسی چیزوں سے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ پھر بھی بیٹری فل ہونے کی صورت میں روزمرہ کے کئی سفر صرف بجلی پر مکمل ہو سکتے ہیں۔

لمبے سفر میں پیٹرول انجن اور الیکٹرک نظام مل کر کام کرتے ہیں، اور بیٹری کم ہونے پر گاڑی عام ہائبرڈ کی طرح چلتی رہتی ہے۔ یعنی نہ رینج کی فکر، نہ چارجنگ اسٹیشن ڈھونڈنے کی مجبوری۔ جن لوگوں کو گھر یا دفتر میں چارجنگ کی آسان سہولت میسر ہے، ان کے لیے یہ ایسا امتزاج ہے جس میں روزانہ کا سفر بجلی پر اور لمبا سفر پیٹرول کی سہولت کے ساتھ ممکن ہے۔

ایم جی کی ہائبرڈ گاڑیاں پاکستان میں

ہائبرڈ پلس اور سپر ہائبرڈ: ایک نظر میں فرق

خصوصیت ایچ ایس ہائبرڈ پلس زیڈ ایس ہائبرڈ پلس ایچ ایس سپر ہائبرڈ
قسم سیلف چارجنگ ہائبرڈ سیلف چارجنگ ہائبرڈ پلگ ان ہائبرڈ
سیگمنٹ ایس یو وی بی سیگمنٹ ایس یو وی ایس یو وی
پاور 146 کلوواٹ موٹر + 105 کلوواٹ انجن 158 کلوواٹ مجموعی پاور —
بیٹری 1.83 کلوواٹ آور — 24.7 کلوواٹ آور
باہر سے چارجنگ ضرورت نہیں ضرورت نہیں ممکن
الیکٹرک رینج محدود محدود 135 کلومیٹر تک (NEDC)

عالمی سطح پر پذیرائی

ایم جی کی ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کو برطانیہ، آسٹریلیا اور اسپین کے آٹو میڈیا کی جانب سے اعزازات مل چکے ہیں، اور ایم جی پاکستان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں بھی جدید ترین عالمی اسپیسیفکیشن پیش کی جا رہی ہے۔

ایم جی ایچ ایس سپر ہائبرڈ کو برطانوی میڈیا کی جانب سے دو اعزاز ملے: آٹو ایکسپریس نے اسے “بیسٹ پلگ ان ہائبرڈ آف دی ایئر” قرار دیا، جبکہ وہاٹ کار؟ نے “بیسٹ ہائبرڈ کار آف دی ایئر” کا اعزاز دیا۔

ایم جی زیڈ ایس ہائبرڈ پلس کو بھی دو مختلف ممالک میں پذیرائی ملی۔ آسٹریلیا میں وچ کار؟ نے اسے “بیسٹ اسمال ایس یو وی آف دی ایئر” قرار دیا، جبکہ اسپین میں کارواؤ نے اسے “بیسٹ ہائبرڈ کار آف دی ایئر” کا اعزاز دیا۔

ان اعزازات میں دو مختلف ٹیکنالوجیز شامل ہیں، یعنی ایچ ایس سپر ہائبرڈ میں پلگ ان ہائبرڈ اور زیڈ ایس ہائبرڈ پلس میں سیلف چارجنگ ہائبرڈ۔ پاکستانی خریداروں کے لیے یہ بین الاقوامی پذیرائی ایم جی کے مقامی پورٹ فولیو کو پرکھنے کا ایک اضافی حوالہ ضرور ہے۔

آپ کے لیے کون سی گاڑی بہتر ہے؟

ہائبرڈ پلس چنیں اگر:

  • آپ کے گھر یا دفتر میں چارجنگ کی سہولت نہیں
  • آپ چاہتے ہیں کہ روٹین میں کوئی تبدیلی نہ آئے اور بس پیٹرول ڈلوا کر چلتے رہیں
  • آپ کی گاڑی زیادہ تر شہر کی ڈرائیونگ میں استعمال ہوتی ہے

سپر ہائبرڈ چنیں اگر:

  • آپ کے پاس گھر یا دفتر میں چارجنگ لگوانے کی سہولت ہے
  • آپ کا روزانہ کا سفر بیٹری کی رینج کے اندر آ جاتا ہے
  • آپ بجلی پر زیادہ سے زیادہ چلنا چاہتے ہیں مگر لمبے سفر کے لیے پیٹرول کا آپشن بھی رکھنا چاہتے ہیں

ایچ ایس اور زیڈ ایس کے ہائبرڈ پلس اور سپر ہائبرڈ ورژن

مارکیٹ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے

جیسے جیسے پاکستان میں الیکٹرک اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے، ان نظاموں کا فرق سمجھنا خریداروں کے لیے اتنا ہی اہم ہوتا جائے گا۔ ایم جی کی حکمت عملی یہ ہے کہ ایک ہی ایس یو وی رینج میں ہائبرڈ ڈرائیونگ کے مختلف راستے پیش کیے جائیں تاکہ ہر خریدار اپنے بجٹ، معمول اور سہولت کے مطابق انتخاب کر سکے۔ کچھ کے لیے بغیر پلگ والی ہائبرڈ کی سہولت پرکشش ہو گی، اور کچھ کے لیے زیادہ سے زیادہ روزمرہ سفر بجلی پر کرنے کا امکان۔ دونوں صورتوں میں فیصلے کا مرکز لچک ہی رہے گی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ہائبرڈ پلس اور سپر ہائبرڈ میں بنیادی فرق کیا ہے؟
ہائبرڈ پلس میں بیٹری گاڑی خود چارج کرتی ہے اور باہر سے پلگ لگانے کی ضرورت نہیں۔ سپر ہائبرڈ میں بڑی بیٹری ہے جسے باہر سے بھی چارج کیا جا سکتا ہے۔

کیا ایچ ایس سپر ہائبرڈ صرف بجلی پر چل سکتی ہے؟
کمپنی کے مطابق مکمل چارج پر NEDC ٹیسٹ سائیکل میں 135 کلومیٹر تک الیکٹرک رینج ملتی ہے۔ حقیقی رینج حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

بیٹری ختم ہو جائے تو کیا ہو گا؟
گاڑی پیٹرول انجن اور الیکٹرک نظام کے ساتھ عام ہائبرڈ کی طرح چلتی رہتی ہے۔

زیڈ ایس ہائبرڈ پلس کون سے ویریئنٹس میں آتی ہے؟
ایکسائٹ اور ایسنس ویریئنٹس میں۔

Related Posts

حکومت کا پیٹرول کی قیمت بڑھانے اور ڈیزل سستا کرنے کا اعلان، 6 اکتوبر سے نئے ریٹ نافذ
  • October 5, 2026

…

Continue reading