وینٹی لیٹر نہ ملنے پر دوست کی موت، فتح اللہ خان اسمبلی میں پھٹ پڑے
اسلام آباد (نمائندہ ) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی آن ڈیفنس اور رکن قومی اسمبلی فتح اللہ خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں صحت کی سہولیات کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ وینٹی لیٹر کی عدم دستیابی کے باعث ان کا ایک دوست جان کی بازی ہار گیا۔
فتح اللہ خان کے مطابق ان کا دوست ڈی آئی خان میں ایک حادثے کے دوران سر پر شدید چوٹ لگنے سے زخمی ہوا۔ ڈی آئی خان کے اسپتال نے کیس ہینڈل کرنے سے معذرت کرتے ہوئے مریض کو وفاق بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان اور خیبرپختونخوا کے اس حصے میں وینٹی لیٹر کی سہولت موجود ہی نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں. جتوئی میں سرائیکستان کا نعرہ گونج اٹھا-صوبہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے
انہوں نے بتایا کہ مریض کو اسلام آباد لایا گیا جہاں بے نظیر بھٹو اسپتال، پولی کلینک اور پمز سمیت مختلف اسپتالوں میں وینٹی لیٹر کی تلاش کی گئی، مگر کہیں بھی دستیاب نہ تھا۔ فتح اللہ خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریباً 18 اسپتالوں سے رابطہ کیا، لیکن ہر جگہ سے مایوسی ہوئی۔
ان کے مطابق بارہ کہو کے ایک نجی اسپتال میں ایک رات کے وینٹی لیٹر کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ مریض کے اہل خانہ میں اتنی استطاعت نہیں تھی کہ دوبارہ یہ اخراجات برداشت کر سکیں، اور وینٹی لیٹر نہ ملنے کے باعث مریض دم توڑ گیا۔
فتح اللہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا اور ڈی آئی خان میں 13 سال سے حکومت رہی، لیکن وہاں صحت کے انتظامات میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں. میٹرک اور انٹر پاس طلبہ کے لیے بڑی خوشخبری! کراچی نرسنگ کالج میں مفت تعلیم کا موقع، داخلے کھل گئے
انہوں نے وزیر صحت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں پمز میں بھی ایک سانحہ پیش آیا جہاں وینٹی لیٹر دستیاب نہیں تھا، اور ایسے حادثات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے تعلیم، روزگار اور صحت کے مسائل حل کرے، مگر تاحال اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نظر نہیں آتی۔