نوکری چاہیے تو ہنر سیکھیں! زرعی انجینئرز کے لیے ڈرون ٹریننگ کا آغاز
ٹنڈوجام: نوکری کی دوڑ میں اب صرف ڈگری کافی نہیں رہی، عملی ہنر ہی نوجوانوں کو آگے لے جائے گا۔ اسی سوچ کے تحت سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام زرعی انجینئرنگ کے طلبہ کو ڈرون چلانے کی باقاعدہ تربیت دینے جا رہی ہے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے بتایا کہ یہ تربیت الکرم گروپ کے تعاون سے دی جائے گی۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ نوجوان جدید کاشتکاری، ڈیجیٹل فارمنگ اور نئی زرعی ٹیکنالوجی کو عملی طور پر سیکھ سکیں گے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ طالبات کو بھی اس سے باہر نہیں رکھا جائے گا۔ یونیورسٹی انہیں ٹریکٹر چلانے اور ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ وہ بھی روزگار کے نئے راستے تلاش کر سکیں۔
ڈاکٹر الطاف سیال کے مطابق دنیا بھر میں کھیتی باڑی اب مشینوں اور روبوٹس پر جا رہی ہے، اور جی آئی ایس، ریموٹ سینسنگ اور ڈرون جیسی ٹیکنالوجی فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور وسائل بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنائے بغیر زرعی ترقی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں علی پور کا بچہ بورڈ میں چھا گیا! ڈیرہ غازی خان بورڈ میں 555 میں سے 539 نمبر لے کر دوسری پوزیشن حاصل کر لی
انہوں نے سرکاری اور نجی اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ زرعی انجینئرنگ کی ڈگری کو تسلیم کیا جائے اور بھرتیوں و مقابلے کے امتحانات میں ان طلبہ کو برابر کا موقع دیا جائے۔
یہ اعلان ٹریکٹر آپریشن اور دیکھ بھال کی دو روزہ ورکشاپ کے افتتاح پر کیا گیا، جو فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے منعقد کی۔ فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر منیر احمد منگریو نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ انجن اور مشینری کی مرمت اور فیلڈ کے کام میں مہارت حاصل کریں، کیونکہ یہ دور عملی سیکھنے اور نئے تجربات کا ہے۔