پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب کی سنٹرل انفارمیشن سیکرٹری ایڈووکیٹ سارہ علی سید نے پی آئی اے کی نجکاری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ایئرلائن ماضی میں ملک کا فخر اور ایک قیمتی اثاثہ تھی، جسے موجودہ اتحادی حکومت نے انتہائی کم قیمت پر فروخت کر کے ملک و قوم کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں پی آئی اے صرف ایک سال کے اندر 148 ارب روپے کے منافع میں جا چکی تھی، جبکہ آج پورے ادارے کو محض 135 ارب روپے میں فروخت کر دیا گیا، جو سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے پاس مجموعی طور پر 38 طیارے موجود ہیں، جن میں سے 18 فعال ہیں، اور عالمی منڈی میں ایک جہاز کی قیمت ہی 80 سے 90 ارب روپے کے قریب ہے۔
سارہ علی سید نے کہا کہ قومی اداروں کو اس بنیاد پر فروخت کرنا کہ حکومت انہیں چلانے میں ناکام ہے، دراصل حکومتی نااہلی کا اعتراف ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مجبوری نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا، جس سے قومی مفادات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پچھلی حکومت کے چھوڑے کھنڈرات پر نئی عمارت کھڑی ہو رہی ہے، خواجہ آصف







