بنوں حملہ : شہداء کو خراج عقیدت
مستقبل پاکستان کے چیئرمین اور ممتاز سیاسی رہنما انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے میں اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس اور شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس المناک واقعے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے امن و امان کو نشانہ بنانے والے شکست خوردہ عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
دہشت گردی: ایک مشترکہ قومی چیلنج
انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے اپنے خصوصی بیان میں واضح کیا کہ دہشت گردی اب محض کسی ایک صوبے یا مخصوص علاقے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک مشترکہ قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک پوری قوم اور تمام سیاسی و سماجی حلقے ایک پیج پر نہیں آئیں گے، اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں پولیس چوکی پر بارودی مواد سے لدی گاڑی کا حملہ اس بات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں اپنی سیکیورٹی پالیسیوں اور عوامی آگاہی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
شکست خوردہ عناصر کی آخری کوششیں
چیئرمین مستقبل پاکستان نے دہشت گردوں کو “شکست خوردہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ریاست کے ستون مضبوط ہوتے ہیں تو بزدل دشمن اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے مایوسی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ “دہشت گرد ہماری صفوں میں انتشار، خوف اور عدم اعتماد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان خلیج پیدا ہو، لیکن پاکستانی قوم پہلے بھی متحد تھی اور اب بھی ان کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے تیار ہے،” انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
بیانیے کی جنگ اور قومی سلامتی
انجینئر ندیم ممتاز قریشی کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف گولی اور بارود کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ “بیانیے” (Narrative) کی بھی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فکری محاذ پر بھی ان عناصر کو شکست دینی ہوگی۔ ملکی سلامتی اور بقا پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا کرنا شہداء کے لہو سے بے وفائی ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تمام تر سیاسی و ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف “پاکستان” کے تحفظ کے لیے یکجا ہو جائیں۔
شہداء کی قربانیاں رائیگاں ن کا ذکر کرتے ہوئے انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پولیس فورس فرنٹ لائن پر رہ کر ہماری حفاظت کر رہی ہے۔ 15 جوانوں کی شہادت نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے، لیکن ان کا یہ لہو ایک مستحکم اور پرامن پاکستان کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور شہداء کے خاندانوں کی مکمل کفالت کو یقینی بنایا جائے۔
سیاسی کمیٹی کے فیصلے پر بغاوت؟ پی پی 167 پر پی ٹی آئی کے اندر ہلچل
دہشت گردی کے سدباب کے لیے تجاویز
اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے چند اہم نکات پر روشنی ڈالی جو کہ موجودہ صورتحال میں ناگزیر ہیں:
-
قومی اتحاد: تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ قومی ایجنڈا ترتیب دیں۔
-
خفیہ اداروں کی مضبوطی: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں تیزی لائی جائے تاکہ حملوں سے قبل ہی دہشت گردوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
-
عوامی تعاون: عوام کو اپنی صفوں میں موجود مشکوک افراد پر نظر رکھنی ہوگی اور اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانا ہوگا۔
-
سرحدی انتظام: سرحدوں کی نگرانی کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ بارود اور شرپسند عناصر کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے گفتگو کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ “مستقبل پاکستان” کی قیادت اور کارکنان پاک فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے پاکستان کے لیے کوشاں ہیں جہاں ہماری آنے والی نسلیں خوف اور دہشت سے پاک ماحول میں سانس لے سکیں۔ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے، بلکہ یہ ہمیں اپنے مقصد میں مزید ثابت قدم بناتے ہیں۔






