طاقتور لڑتے ہیں
دنیا میں جب بھی دو طاقتور ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنازعات بڑھتے ہیں تو اس کے اثرات صرف ان ممالک
تک نہیں محدود رہتے بلکہ کئی دوسرے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ حالیہ ایران اور امریکہ کے درمیان
بڑھتے ہوئے تنازعات نے نہ صرف مشر ِق وسط ٰی بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو بھی متاثر کیا ہے۔ پاکستان
اگرچہ برا ِہ راست اس تنازع کا حصہ نہیں تھا مگر اس کے باوجود پاکستان کی عوام اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی اور معاشی ہر لحاظ سے خطے کے حاالت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ دونوں
ممالک کا پاکستان سے ایک گہرا تعلق ہے دونوں ملک پاکستانی معیشت کے لیے بہت اہم ہیں۔ ایران سے ہمیں سستا تیل
اور بجلی ملتی ہے جبکہ امریکہ ہماری معیشت کو سہارا دیتا ہے اور ہماری چیزیں خریدتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
پاکستان ان دونوں ممالک کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتا ہے تاکہ اپنا فائدہ حاصل کر سکے۔
چونکہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کام کر رہا تھا اس لیے ایران اور امریکہ کی مالقات اسالم آباد
میں ہونی قرار پائی۔ جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر بہت اہمیت دی مگر ان مذاکرات نے اسالم آباد کو مختلف
چیزوں سے آزمایا۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث راستے بند کیے، ریڈ زون سیل کیا گیا، مختلف کاروبار متاثر ہوئے،
بچوں کی تعلیم آن الئن کر دی گئی اور شہریوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔
ان تمام حاالت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہوا ہے۔ ایسے بہت سے گھرانے جو
پہلے بمشکل ایک وقت کا چولہا جالتے تھے، اب ان کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
خوراک کی کمی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے لوگوں کو شدید معاشی اور ذہنی دباؤ میں مبتال کر دیا
ہے، جس کے باعث معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور نفسیاتی مسائل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض حاالت میں
یہ دباؤ افراد کو انتہائی اور خودکشی جیسے حاالت دیکھنے کو نظر آئے ۔
ان سب کے عالوہ بین االقوامی کشیدگی نے ہماری معیشت کو متاثر کیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول مصنوعات
کا بڑھنا ایک عام شہری کے لیے انتہائی مشکل ہو گیا۔
یہ ساری صورتحال اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اور سیاسی تنازعات کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو
اٹھانا پڑتا ہے۔ عالمی طاقتوں کو یہ چیز سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی مفادات سے بڑھ کر انسانی زندگی اور
ان کا سکون ہے، آخر میں بس پھر یہی سوچ رہ جاتی ہے کہ جنگ کسی کی بھی ہو اس کا بوجھ ہمیشہ عام انسان کے
کندھوں پر آتا ہے
کالم نگار: ماہم جوریہ








