عمران خان کی آنکھ کی بینائی ختم، پی ٹی آئی نے مزاکرات کی نئی شرط رکھ دی

عمران خان کی بینائی میں کمی، صحت کا بحران اور پاکستان کی سیاست پر اس کے اثرات

پاکستان کی سیاست اس وقت ایک نہایت حساس اور پیچیدہ مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر ہے تو دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک انکشافات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس نہ صرف ان کی ذاتی صحت کے مسائل کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ آیا انہیں بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے حکومت کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کو عمران خان کی رہائی سے مشروط کر دیا ہے، جس نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے، جو کہ ایک سنگین طبی مسئلہ ہے۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ امیکس کیوری بیرسٹر سلمان صفدر نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ جمع کروائی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کو اکتوبر 2025 سے آنکھ میں دھندلا پن محسوس ہو رہا تھا لیکن جیل حکام نے اس شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بعد ازاں طبی معائنے میں انکشاف ہوا کہ انہیں Central Retinal Vein Occlusion (CRVO) جیسی بیماری لاحق ہو چکی ہے، جو آنکھ کی رگ میں خون کے لوتھڑے بننے کی وجہ سے ہوتی ہے اور بینائی کو شدید متاثر کرتی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی اس معاملے کی تصدیق کی ہے، جس سے اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نہ صرف جسمانی تکلیف کا شکار ہیں بلکہ ذہنی دباؤ اور مایوسی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ جیل میں موجود سہولیات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جہاں بنیادی ضروریات تو موجود ہیں لیکن طبی سہولیات ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے عمران خان کے مکمل طبی معائنے کا حکم دیا اور انہیں اپنے ذاتی معالج تک رسائی دینے کی ہدایت بھی کی۔ تاہم حکومتی میڈیکل بورڈ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ عمران خان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے، جسے ان کے اہل خانہ نے مسترد کر دیا۔ اس تضاد نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور عوامی سطح پر شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔

سیاسی سطح پر اس معاملے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ PTI نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کی بنیادی شرط عمران خان کی رہائی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی سیاسی عمل میں ان کے قائد کی شمولیت ناگزیر ہے۔ اس

اسی دوران ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جہاں کارکنان عمران خان کی رہائی اور مہنگائی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں نے حکومت پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے اور سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

قانونی طور پر عمران خان کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں مختلف عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ تاہم ان کی قانونی ٹیم مسلسل ان سزاؤں کو چیلنج کر رہی ہے اور صحت کی بنیاد پر ریلیف حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عدالت نے ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بڑا فیصلہ کیا تو اس کے پاکستان کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ معاملہ اب صرف ایک سیاسی تنازعہ نہیں رہا بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس پر نظر رکھی جا رہی ہے اور مختلف ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا قیدی کے طور پر عمران خان کو وہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ضروری ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس اور تجزیات پڑھنے کے لیے آپ یہ لنک وزٹ کر سکتے ہیں:
Al Jazeera رپورٹ

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عمران خان کی صحت، ان کی قید، اور PTI کے سیاسی مطالبات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں جو پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کو تشکیل دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی مفاہمت پیدا ہوتی ہے یا یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔ ایک بات واضح ہے کہ عمران خان کی موجودہ حالت نے نہ صرف ان کے حامیوں کو متحرک کر دیا ہے بلکہ ملکی سیاست کو بھی ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔

Related Posts