ساہیوال ڈویژن: ایم اینڈ آر ٹھیکیداروں کے واجبات کے لیے نیا منظم نظام تیار کیا جا رہا ہے، صوبائی وزیر

ساہیوال ڈویژن کے کنسٹرکٹرز کی بقا کا مسئلہ: صوبائی وزیر کی یقین دہانیاں اور ٹھیکیداروں کے تحفظات

رپورٹ: پرنس الطاف حسین ساہیوال: پنجاب میں تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے گزشتہ کچھ عرصہ معاشی لحاظ سے انتہائی کٹھن ثابت ہوا ہے۔ خصوصاً ساہیوال ڈویژن میں محکمہ بلڈنگز اور ہائی وے سرکل کے تحت ہونے والے ترقیاتی کاموں کی رکی ہوئی ادائیگیوں نے مقامی ٹھیکیداروں کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ اسی سنگین صورتحال کے پیش نظر کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن ڈویژن ساہیوال کی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سید محمد علی بخاری کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ سے ملاقات کی، جس میں ٹھیکیداروں کے دیرینہ مسائل اور کروڑوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات کا پس منظر اور وفد کے مطالبات

اس اہم ملاقات میں سید علی گیلانی (لاہور) اور کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن (CAP) کے دیگر مرکزی عہدیداران بھی شریک تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو ایک تحریری میمورنڈم پیش کیا جس میں ساہیوال ڈویژن کی تینوں اضلاع (ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن) میں جاری اور مکمل شدہ منصوبوں کی تفصیلات درج تھیں۔

چیئرمین سید محمد علی بخاری نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ بلڈنگز سرکل کی تینوں ڈویژنوں میں ایم اینڈ آر (Maintenance & Repair) کے تحت ہونے والے کاموں کی ادائیگیاں گزشتہ کئی ماہ، بلکہ بعض کیسز میں سال بھر سے رکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ٹھیکیداروں نے بنکوں سے بھاری سود پر قرضے لے کر اور اپنی جمع پونجی لگا کر عوامی مفاد کے منصوبے مکمل کیے، لیکن اب فنڈز کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر انہیں ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے۔”

محکمہ بلڈنگز اور ہائی وے سرکل میں انتظامی رکاوٹیں

وفد نے صوبائی وزیر کے سامنے اس بات کا بھی شکوہ کیا کہ محکمہ بلڈنگز اور ہائی وے سرکل کے افسران کا رویہ بھی ٹھیکیداروں کے ساتھ تعاون پر مبنی نہیں ہے۔ فنڈز کی دستیابی کے باوجود بعض اوقات بیوروکریٹک رکاوٹیں ادائیگیوں کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔ کنسٹرکٹرز کا کہنا تھا کہ ایم اینڈ آر ورک جو کہ ہسپتالوں، سکولوں اور سرکاری عمارات کی دیکھ بھال کے لیے ہوتا ہے، اسے ترجیح دینے کے بجائے نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عمارتیں خستہ حال ہو رہی ہیں بلکہ ٹھیکیداروں کا دیوالیہ نکل رہا ہے۔

سید علی گیلانی نے اس موقع پر کہا کہ لاہور سے لے کر ساہیوال تک ٹھیکیدار برادری ایک ہی جیسے مسائل کا شکار ہے، لیکن ساہیوال ڈویژن میں حالات زیادہ گھمبیر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ادائیگیوں کے لیے ایک شفاف “فرسٹ کم، فرسٹ سرو” (First Come, First Served) پالیسی بنائی جائے تاکہ سفارش کلچر کا خاتمہ ہو سکے۔

صوبائی وزیر کا موقف: “سابقہ حکومتوں کا بوجھ اور نیا نظام”

صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ نے وفد کی باتیں تحمل سے سنیں اور اس بات کا اعتراف کیا کہ ایم اینڈ آر (M&R) کی لائیبلٹیز (واجبات) اس وقت حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں ورثے میں بہت بڑا مالی بوجھ ملا ہے، تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ہم ایک ایسا فول پروف نظام ترتیب دے رہے ہیں جس سے تمام سابقہ ادائیگیاں مرحلہ وار طریقے سے کلیئر کر دی جائیں گی۔”

وزیر موصوف نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی محکمے کو اس وقت تک ٹینڈر جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک اس کے لیے فنڈز پہلے سے مختص نہ ہوں۔ اس اقدام کا مقصد ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں کے لامتناہی انتظار سے بچانا اور محکمے پر غیر ضروری مالی بوجھ کو روکنا ہے۔

ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل کی واپسی اور فنڈز کا اجراء

ملاقات کے دوران ایک تکنیکی پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ فنڈز کی منظوری اور نئے طریقہ کار کی فائلیں ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل امیر الحسن شاہ کی میز پر ہیں۔ صوبائی وزیر نے وفد کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ امیر الحسن شاہ اس وقت فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہیں، جیسے ہی وہ وطن واپس پہنچیں گے، ان کی مشاورت سے ایم اینڈ آر کے تمام رکے ہوئے فنڈز ایک نئے اور منظم طریقہ کار کے مطابق جاری کرنا شروع کر دیے جائیں گے۔

معرکۂ حق بنیان المرصوص” کے سلسلے میں شاندار جشنِ فتح

ٹھیکیدار برادری میں بے چینی اور عوامی اثرات

ساہیوال کے مقامی ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ادائیگیاں فوری نہ ہوئیں تو وہ احتجاجاً ترقیاتی کاموں کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یاد رہے کہ ساہیوال ڈویژن میں سڑکوں کی مرمت اور سرکاری عمارتوں کی بحالی کے سینکڑوں منصوبے اس وقت فنڈز کی کمی کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔ اس تعطل کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے کیونکہ خستہ حال سڑکیں حادثات کا سبب بن رہی ہیں اور سکولوں و ہسپتالوں کی عمارات کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

ملاقات کے اختتام پر صوبائی وزیر نے کیپ (CAP) کے عہدیداران کی کاوشوں کو سراہا اور یقین دلایا کہ حکومت کنسٹرکٹرز کو اپنا پارٹنر سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر تعمیراتی صنعت چلے گی تو ہی ملک چلے گا اور مزدور کو روٹی ملے گی۔”

کنسر کٹرز ایسوسی ایشن ساہیوال کے چیئرمین سید محمد علی بخاری نے امید ظاہر کی کہ صوبائی وزیر اپنے وعدے کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری کی واپسی پر فنڈز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کروائیں گے۔ انہوں نے متنبہ بھی کیا کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر پیش رفت نہ ہوئی تو وہ دوبارہ صوبائی قیادت سے رابطہ کریں گے۔

یہ ملاقات ایک مثبت نوٹ پر ختم ہوئی، تاہم اب سب کی نظریں سیکرٹریٹ لاہور اور فنڈز کے اجراء کے نوٹیفکیشن پر لگی ہوئی ہیں۔

Related Posts

معرکۂ حق بنیان المرصوص” کے سلسلے میں شاندار جشنِ فتح
  • May 11, 2026

ضلعی انتظامیہ لودھراں…

Continue reading

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *