ایپل کا نیا خفیہ پروجیکٹ ایئر پوڈز 2026

ایپل کا خفیہ منصوبہ: کیا نئے ایئر پوڈز انسانی بصارت کے لیے ‘تیسری آنکھ’ بن جائیں گے؟

(ٹیک ڈیسک.)دنیا کی صفِ اول کی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل، جو اپنی اختراعات اور صارفین کے طرز زندگی کو بدلنے کے حوالے سے مشہور ہے، اب ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے جو مستقبل میں ایئر فونز کے تصور کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گا۔ کمپنی کے ذرائع اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایپل اپنے مقبول ترین وائرلیس ایئر فونز “ایئر پوڈز” (AirPods) میں چھوٹے کیمرے اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو ضم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد محض موسیقی سننا نہیں بلکہ ایئر پوڈز کو صارف کی “تیسری آنکھ” بنانا ہے۔

پروجیکٹ کی تفصیلات: کیمرہ ایئر فونز میں کیوں؟

عام طور پر ایئر پوڈز کا استعمال کالز کرنے یا گانے سننے تک محدود ہوتا ہے، لیکن ایپل کا نیا آئیڈیا اسے ایک “ویژول اسسٹنٹ” (Visual Assistant) میں تبدیل کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان نئے ایئر پوڈز میں نصب انتہائی چھوٹے کیمرے صارف کے سامنے موجود منظر کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔

یہ کیمرے تصاویر کھینچنے یا ویڈیو بنانے کے بجائے ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے کے لیے استعمال ہوں گے۔ مصنوعی ذہانت (AI) ان کیمروں کے ذریعے موصول ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرے گی اور صارف کو ریئل ٹائم میں معلومات فراہم کرے گی۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کسی انجان شہر میں چل رہے ہیں، تو یہ ایئر پوڈز آپ کو بتا سکیں گے کہ آپ کے سامنے کون سی عمارت ہے یا سامنے والا سائن بورڈ کیا کہہ رہا ہے۔

راولپنڈی: مورگاہ پولیس کی کارروائی، گھریلو ملازمہ زیورات چوری کے مقدمے میں گرفتار

مصنوعی ذہانت (AI) کا کردار

ایپل کا یہ نیا فیچر کمپنی کے اپنے نئے اے آئی سسٹم “Apple Intelligence” کا حصہ ہوگا۔ ان ایئر پوڈز میں نصب سینسرز اور کیمرے صارف کے سر کی حرکت اور سامنے کے مناظر کو دیکھ کر سمارٹ فیصلے لیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ایک معجزہ ثابت ہو سکتی ہے جو بصارت کی کمزوری کا شکار ہیں، کیونکہ یہ ڈیوائس انہیں راستے کی رکاوٹوں، ٹریفک کے اشاروں اور سامنے موجود افراد کی شناخت کے بارے میں کان میں آواز کے ذریعے آگاہ کر سکے گی۔

ایپل ویژن پرو (Vision Pro) سے تعلق

ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایپل کے حالیہ پروڈکٹ “ویژن پرو” (Vision Pro) کا ایک چھوٹا اور زیادہ قابلِ استعمال ورژن ہو سکتا ہے۔ ویژن پرو ایک بڑا ہیڈ سیٹ ہے جسے پہن کر باہر نکلنا ہر وقت ممکن نہیں، لیکن ایئر پوڈز ایک ایسی ڈیوائس ہے جسے لوگ گھنٹوں پہنے رکھتے ہیں۔ ان چھوٹے کیمروں کے ذریعے ایپل اپنے “آگمینٹڈ رئیلٹی” (Augmented Reality) کے خواب کو عام آدمی کی رسائی میں لانا چاہتا ہے۔

رازداری اور پرائیویسی کے تحفظات

جہاں یہ ٹیکنالوجی حیران کن ہے، وہاں اس پر پرائیویسی کے حوالے سے بڑے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ اپنے کانوں میں کیمرے لگا کر گھومیں گے، تو ارد گرد موجود لوگوں کی رازداری متاثر ہو سکتی ہے۔

  • کیا یہ کیمرے خفیہ طور پر ریکارڈنگ کریں گے؟

  • کیا صارفین کو معلوم ہوگا کہ کوئی ان کی تصویر کشی کر رہا ہے؟

    ایپل کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی ان تحفظات سے آگاہ ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ یہ کیمرے صرف “پراسیسنگ” کے لیے استعمال ہوں، یعنی ڈیٹا کہیں محفوظ نہیں ہوگا بلکہ صرف اے آئی کو معلومات فراہم کر کے فوراً ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

صارفین کے لیے اس کے ممکنہ فوائد

 اس بحث میں اگر ہم اس کے روزمرہ استعمال پر غور کریں تو یہ بے شمار فوائد فراہم کر سکتا ہے:

  1. کھانے پینے کی اشیاء کی پہچان: آپ کسی دکان میں کوئی پھل یا پیکٹ اٹھائیں، ایئر پوڈز اس کی کیلوریز یا قیمت بتا سکیں گے۔

  2. فوری ترجمہ: اگر آپ کے سامنے کوئی غیر ملکی زبان کا بورڈ ہے، تو کیمرہ اسے دیکھ کر آپ کے کان میں اس کا ترجمہ سنا دے گا۔

  3. فٹنس اور کھیل: ورزش کے دوران یہ ایئر پوڈز دیکھ سکیں گے کہ آپ کی ورزش کی پوزیشن درست ہے یا نہیں۔

مستقبل کی مارکیٹ اور مقابلے کی فضا

ایپل اس میدان میں اکیلا نہیں ہے۔ میٹا (فیس بک) نے بھی حال ہی میں ‘رے بین’ (Ray-Ban) کے ساتھ مل کر سمارٹ گلاسز متعارف کروائے ہیں جن میں کیمرے اور اے آئی موجود ہے۔ تاہم، ایپل کا ایئر پوڈز والا آئیڈیا اس لیے زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ پہلے ہی ایئر پوڈز استعمال کر رہے ہیں اور ان کے لیے چشمے کے مقابلے میں ایئر فونز پہننا زیادہ آرام دہ ہے۔

تکنیکی چیلنجز

ایپل کے انجینئرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایئر پوڈز کی بیٹری لائف ہے۔ کیمرے اور اے آئی پراسیسنگ کے لیے زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ اتنی چھوٹی ڈیوائس میں طاقتور بیٹری اور کیمرہ فٹ کرنا کسی انجینئرنگ کرشمے سے کم نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ، کیمروں کو پسینے اور دھول مٹی سے بچانا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

Appایپل کا نیا خفیہ پروجیکٹ ایئر پوڈز 2026

ایپل کا یہ خفیہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اسے 2027 یا اس کے بعد عوامی سطح پر پیش کیا جائے گا۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے، تو اسمارٹ فونز پر ہماری انحصار مزید کم ہو جائے گی اور ہم ایک ایسی دنیا میں قدم رکھیں گے جہاں ٹیکنالوجی ہمارے جسم کا حصہ بن کر ہماری حسیات (Senses) کو تقویت دے گی۔

ٹیکنالوجی کے شوقین افراد بے صبری سے ایپل کی اگلی کانفرنس کا انتظار کر رہے ہیں جہاں شاید اس ‘تیسری آنکھ’ کی پہلی جھلک دیکھنے کو مل سکے۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *