یوکرین پر داغے گئے روسی میزائل ’اوریشنک‘ کی خصوصیات، رفتار، تباہی اور عالمی خدشات
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں حالیہ دنوں میں ایک نئے اور خطرناک ہتھیار “اوریشنک” (Oreshnik) میزائل کا استعمال عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل نہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے بلکہ اس کی رفتار، رینج اور حملہ آور صلاحیت اسے موجودہ دور کے مہلک ترین ہتھیاروں میں شامل کرتی ہے۔ مختلف عالمی ذرائع اور دفاعی تجزیہ رپورٹس سے حاصل معلومات کے مطابق، اوریشنک میزائل روس کی اسٹریٹجک طاقت کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جو مستقبل میں عالمی سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
سب سے پہلے اس میزائل کی بنیادی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اوریشنک دراصل ایک “انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل” ہے، یعنی ایسا میزائل جو درمیانے فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی رینج تقریباً 3,500 سے 5,500 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ پورے یورپ سمیت دور دراز علاقوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس میزائل کی سب سے اہم خصوصیت اس کی رفتار ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق اوریشنک میزائل کی رفتار آواز کی رفتار سے 10 گنا زیادہ (Mach 10) تک پہنچ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے “ہائپر سونک” میزائل بھی کہا جاتا ہے۔ اس قدر زیادہ رفتار کی وجہ سے روایتی فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) کے لیے اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، اور یہی اس کی سب سے خطرناک خوبی تصور کی جا رہی ہے۔
اوریشنک میزائل کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا “MIRV” سسٹم ہے، یعنی یہ ایک ہی وقت میں متعدد وارہیڈز لے جا سکتا ہے۔ ہر وارہیڈ مختلف ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے دفاعی نظام کو دھوکہ دینا اور حملے کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی ٹیکنالوجی عام طور پر جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہوتی رہی ہے، جس سے اس میزائل کی خطرناک نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
یہ میزائل نہ صرف روایتی بلکہ جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگرچہ یوکرین پر حالیہ حملوں میں اس کا جوہری استعمال نہیں کیا گیا، تاہم اس کی موجودگی ہی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق روس نے اس میزائل کو “اسٹریٹجک ڈیٹرنس” یعنی خوف پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا ہے تاکہ مخالف ممالک پر نفسیاتی دباؤ ڈالا جا سکے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق روس نے یوکرین پر بڑے حملوں کے دوران اس میزائل کا استعمال کیا، جس میں درجنوں میزائل اور سینکڑوں ڈرونز شامل تھے۔ ان حملوں کے دوران شہری علاقوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتوں نے اسے خطرناک پیش رفت قرار دیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوریشنک میزائل دراصل روس کے پرانے RS-26 Rubezh میزائل کا جدید ورژن ہے، جسے مزید بہتر بنا کر میدان جنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ میزائل “روڈ موبائل” ہے، یعنی اسے مختلف جگہوں پر منتقل کر کے لانچ کیا جا سکتا ہے، جس سے اسے تلاش کرنا اور تباہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو اس میزائل کی “انٹرسیپشن مشکل” ہے۔ یعنی موجودہ دفاعی نظام جیسے پیٹریاٹ یا دیگر اینٹی میزائل سسٹمز بھی اس کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرین کے صدر سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے اس میزائل کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
تاہم کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ یہ میزائل تکنیکی طور پر جدید ہے، لیکن اس کی درستگی (accuracy) کے حوالے سے کچھ سوالات موجود ہیں، خاص طور پر جب اسے روایتی وارہیڈ کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ میزائل بڑے اہداف کے لیے مؤثر ہو سکتا ہے، مگر مخصوص ٹارگٹس کو نشانہ بنانے میں محدود ہو سکتا ہے۔
اوریشنک میزائل کے استعمال کا ایک اہم مقصد صرف تباہی نہیں بلکہ “پیغام دینا” بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق روس اس میزائل کے ذریعے مغربی ممالک کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس کے پاس جدید اور طاقتور ہتھیار موجود ہیں، اور وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کو “اسٹریٹجک سگنلنگ” کہا جاتا ہے، جو جدید جنگوں کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
مزید برآں، اس میزائل کی تعیناتی بیلاروس جیسے ممالک میں بھی کی جا چکی ہے، جس سے یورپ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس پیش رفت کو نیٹو اور یورپی ممالک نے اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، اور اس کے جواب میں دفاعی تیاریوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
اگر ہم مجموعی طور پر جائزہ لیں تو اوریشنک میزائل ایک ایسا ہتھیار ہے جو جدید جنگی ٹیکنالوجی، رفتار، اور تباہی کی طاقت کو یکجا کرتا ہے۔ یہ نہ صرف میدان جنگ میں اثرانداز ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سیاست اور طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اوریشنک میزائل کا استعمال یوکرین جنگ میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مستقبل میں جنگوں کے انداز کو بھی بدل سکتا ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ ایک وارننگ ہے کہ جدید ہتھیاروں کی دوڑ اب ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔