کوئٹہ میں ٹرین سروس آج بھی معطل: جعفر ایکسپریس کی روانگی منسوخ، مسافر پریشان
کوئٹہ آنے والی ٹرین کو جیکب آباد سے ہی واپس بھیجنے کا فیصلہ، ریلوے حکام کا ہنگامی اعلان
خصوصی رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان سفر کرنے والے ریل کے مسافروں کے لیے ایک بار پھر پریشان کن خبر سامنے آئی ہے۔ محکمہ ریلویز نے سیکیورٹی اور انتظامی وجوہات کے باعث کوئٹہ سے ٹرین سروس کو آج بھی مکمل طور پر معطل رکھنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرینوں کی اس اچانک اور مسلسل معطلی کی وجہ سے ریلوے اسٹیشنز پر مسافروں، بالخصوص خواتین اور بچوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جعفر ایکسپریس کی روانگی منسوخ: ریلوے حکام کا بیان
ریلوے کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیان کے مطابق، کوئٹہ سے پشاور کے درمیان چلنے والی ملک کی معروف اور اہم ترین ٹرین جعفر ایکسپریس آج کوئٹہ ریلوے اسٹیشن سے اپنی منزل کی طرف روانہ نہیں ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ، اندرون ملک سے کوئٹہ آنے والے مسافروں کے لیے بھی متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ:
“پشاور سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہونے والی اپ-ٹرین (جعفر ایکسپریس) کو بلوچستان کی حدود میں داخل ہونے کے بجائے سندھ کے سرحدی اسٹیشن جیکب آباد پر ہی روک لیا جائے گا اور وہیں سے اسے واپس پشاور کے لیے روانہ (ڈائیورٹ) کر دیا جائے گا۔”
اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ٹرینوں کی آمد و رفت کا سلسلہ مکمل طور پر رکا ہوا ہے، اور جو مسافر جیکب آباد سے آگے کوئٹہ آنا چاہتے تھے، انہیں اب متبادل ٹرانسپورٹ یا سڑک کے راستے کا انتخاب کرنا پڑے گا۔
مسافروں کی مشکلات اور ریلوے اسٹیشنز پر عوامی دہائی
کوئٹہ سے ریل سروس کی مسلسل معطلی نے عید اور عام دنوں کے مسافروں کے شیڈول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر موجود سینکڑوں مسافروں کا کہنا ہے کہ ٹرینوں کی اچانک منسوخی کے باعث ان کے ٹکٹ ضائع ہو گئے ہیں اور نجی ٹرانسپورٹ (پبلک بسیں اور ویگنیں) والے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منہ مانگے کرائے وصول کر رہے ہیں۔
ریلوے انتظامیہ کے مطابق، جن مسافروں نے جعفر ایکسپریس کے لیے پہلے سے بکنگ کروا رکھی تھی، وہ ریلوے کے قواعد و ضوابط کے مطابق اپنے ٹکٹوں کا سو فیصد ریفنڈ (رقم کی واپسی) حاصل کر سکتے ہیں۔
سیکیورٹی اور ٹریک کی بحالی کے اقدامات
اگرچہ ریلوے حکام نے آپریشن کی معطلی کی کوئی مخصوص یا تفصیلی وجہ واضح نہیں کی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال اور ٹریکس کی کڑی نگرانی کے پیشِ نظر یہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ ریلوے حکام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ٹریک کی کلیئرنس اور مسافروں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں، اور جیسے ہی سیکیورٹی کلیئرنس ملے گی، سروس کو فوری بحال کر دیا جائے گا۔
خلاصہ
محکمہ ریلویز کا کہنا ہے کہ مسافروں کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور ٹرین آپریشن کی بحالی کا فیصلہ سیکیورٹی حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ عظیم الشان ٹی وی اپنے قارئین کو ریلوے آپریشن کی بحالی کے حوالے سے آنے والی ہر تازہ ترین اپڈیٹ سے باخبر رکھتا رہے گا۔