سندھ میں 31 مئی تک شدید ہیٹ ویو : 31 مئی تک درجہ حرارت کہاں تک جا سکتا ہے؟ محکمہ موسمیات کا بڑا الرٹ
بالائی اور وسطی اضلاع میں پارہ 50 ڈگری سیلسیس کو چھونے کا امکان، شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت
موسم کی خصوصی رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی
سندھ کے بیشتر اضلاع اس وقت شدید ترین موسمیاتی تبدیلی اور گرمی کی شدید لہر ہیٹ ویو کا سامنا کر رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات پی ایم ڈی نے صوبے بھر کے لیے ایک ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے، جس کے مطابق 31 مئی تک سندھ کے اکثر اضلاع میں سورج آگ برسائے گا اور گرمی کے پچھلے کئی ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ اس شدید موسمی صورتحال کے پیشِ نظر صوبائی حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
درجہ حرارت کہاں تک جا سکتا ہے؟ اضلاع کی تفصیل
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق، صوبے کو جغرافیائی لحاظ سے دو حصوں (بالائی/وسطی اضلاع اور ساحلی پٹی) میں تقسیم کر کے دیکھا جا رہا ہے، جہاں درجہ حرارت درج ذیل حد تک جانے کا امکان ہے:
1۔ بالائی اور وسطی سندھ (اپربیک اور انڈسٹریل زون)
لاڑکانہ، جیکب آباد، سکھر، دادو، نوابشاہ (شہید بینظیر آباد)، خیرپور اور شکارپور جیسے اضلاع اس ہیٹ ویو کا عتاب سب سے زیادہ جھیلیں گے۔ ان علاقوں میں پچھلے چند دنوں سے پارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور آنے والے دو سے تین دنوں (31 مئی تک) کے دوران یہاں درجہ حرارت 46°C سے 50°C یا اس سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
دو۔ زیریں سندھ اور ساحلی علاقے (کراچی اور حیدرآباد)
کراچی، ٹھٹھہ اور بدین جیسے ساحلی اضلاع میں اگرچہ براہِ راست درجہ حرارت پچاس ڈگری تک نہیں پہنچے گا، لیکن سمندری ہواؤں کی بندش اور ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی کی اصل شدت بیالیس سے پینتالیس ڈگری سیلسیس تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ کراچی میں دن کے وقت چلنے والی لو یعنی گرمی کی تپش شہریوں کے لیے شدید ترین آزمائش کا سبب بنے گی۔
ہیٹ ویو کے اثرات: معیشت اور روزمرہ زندگی مفلوج
شدید گرمی کی اس لہر کی وجہ سے صوبے کے دیہی علاقوں میں دوپہر کے وقت کاروباری سرگرمیاں اور بازار مکمل طور پر بند ہو جاتے ہیں، جبکہ سڑکیں سنسان منظر پیش کرتی ہیں۔ ماہرینِ زراعت نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ہیٹ ویو طویل ہوتی ہے تو کھڑی فصلوں، بالخصوص کپاس اور آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے لیے کسانوں کو پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لوڈ شیڈنگ کا عذاب: شدید ترین گرمی کے ان دنوں میں سندھ کے کئی شہروں اور دیہاتوں میں 12 سے 16 گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ نے عوامی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے، جس کے باعث ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی اہم تدابیر
طبی ماہرین نے عظیم الشان ٹی وی کے توسط سے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس جان لیوا ہیٹ ویو کے دوران درج ذیل احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں:
-
پانی کا زیادہ استعمال: پیاس نہ ہونے کے باوجود دن بھر پانی، لسی، لیموں پانی اور او آر ایس کا استعمال جاری رکھیں تاکہ جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو۔
-
بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز: صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک، جب دھوپ تیز ترین ہوتی ہے، بلا ضرورت گھر یا دفتر سے باہر نکلنے سے مکمل پرہیز کریں۔
-
حفاظتی لباس: اگر باہر جانا انتہائی ناگزیر ہو، تو ہلکے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے سوتی کپڑے پہنیں اور سر کو گیلے کپڑے، ٹوپی یا چھتری سے ڈھانپ کر رکھیں۔
-
خلاصہ
31 مئی تک آنے والے یہ دن سندھ کے عوام کے لیے انتہائی بھاری ہیں اور ذرا سی لاپرواہی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مقامات پر سائے اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ عظیم الشان ٹی وی اپنے قارئین سے التماس کرتا ہے کہ وہ خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے آس پاس موجود پرندوں اور جانوروں کے لیے بھی چھتوں پر پانی کا انتظام لازمی کریں۔