انور مقصود کا بڑا انکشاف: پندرہ سال پرانا ‘لوز ٹاک’ آج بھی کیوں وائرل ہو رہا ہے؟ بی بی سی کو تہلکہ خیز انٹرویو

ہمارے حالات نہیں بدلتے’: انور مقصود کا لوز ٹاک کی مقبولیت اور ٹی وی سے دوری پر بڑا انکشاف

مرکزی سرخی: ‘انڈیا سے دوست فون کر کے پوچھتے ہیں معین اختر کی ڈبنگ کون کر رہا ہے’، معروف مصنف کا بی بی سی کو خصوصی انٹرویو

ثقافت و شوبز رپورٹ: عظیم الشان ٹی وی 

پاکستان میں جب بھی طنز و مزاح، کاٹ دار جملوں اور معیاری ڈراما نگاری کا ذکر ہو اور انور مقصود کا نام نہ آئے، ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ ففٹی ففٹی، شوشا، آنگن ٹیڑھا، ہاف پلیٹ اور لوز ٹاک جیسے شاہکار پروگراموں کے ذریعے انہوں نے کئی دہائیوں تک پاکستانی معاشرے، سیاست اور روزمرہ زندگی کے تضادات کو اپنے طنز کا موضوع بنایا۔ آج اگرچہ انور مقصود ٹی وی کے لیے کچھ لکھ رہے ہیں اور نہ ہی تھیٹر پر ان کا کوئی نیا ڈراما آ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود پندرہ سال قبل ختم ہو جانے والے ان کے لازوال پروگرام “لوز ٹاک” کی کلپس نے انہیں موجودہ ڈیجیٹل دور میں بھی نوجوان نسل کے دلوں میں زندہ رکھا ہوا ہے۔

حالات کا نہ بدلنا ہی لوز ٹاک کی مقبولیت کا راز ہے

آئے دن سوشل میڈیا پر لوز ٹاک کی ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں، جس کی انور مقصود کے مطابق سب سے بڑی وجہ ’ملکی حالات کا نہ بدلنا ہے۔‘ بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے مخصوص سنجیدہ اور فلسفیانہ انداز میں کہا کہ:

“میں نے سڑسٹھ برس میں جو کچھ بھی لکھا، یہ سوچ کر لکھا کہ جب تک پاکستان ہے، یہاں کے حالات زیادہ نہیں بدلیں گے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جو باتیں میں نے چودہ پندرہ سال پہلے لکھیں، وہ آج کے حالات پر بھی بالکل فٹ بیٹھتی ہیں۔”

انور مقصود نے بتایا کہ حال ہی میں دو ہفتے قبل اسلام آباد میں جو کچھ سیاسی ہلچل ہوئی، لوگ ان کے پرانے اسکرپٹس شیئر کر کے کہنے لگے کہ آپ کو اتنے سال پہلے کیسے معلوم تھا کہ ایسا ہوگا؟ میں انہیں یہی کہتا ہوں کہ یہاں چہرے بدلتے ہیں، حالات نہیں۔ اسی لیے وہ اکثر مایوسی کے لہجے میں کہتے ہیں کہ ’پاکستان کا صرف ماضی ہے، حال اور مستقبل کا کچھ پتہ نہیں۔‘

انڈیا سے دوستوں کے فون اور معین اختر کی یادیں

انٹرویو کے دوران انور مقصود نے ایک انتہائی دلچسپ اور حیران کن انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پار انڈیا سے ان کے دوست آج بھی انہیں فون کرتے ہیں اور لوز ٹاک کی وائرل کلپس دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ ’یہ معین اختر کی ڈبنگ کون کر رہا ہے؟‘ انور مقصود کہتے ہیں کہ جب میں ان ہندوستانی دوستوں کو بتاتا ہوں کہ یہ ڈبنگ نہیں ہے بلکہ یہ کلپ پندرہ سال پرانی ہے اور معین اختر اب اس دنیا میں نہیں رہے، تو وہ شدید حیرت کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ گفتگو بالکل آج کے سیاسی اور معاشی حالات پر لکھی گئی ہے۔ معین اختر اور انور مقصود کی جوڑی نے جو معیار قائم کیا، وہ آج کے دور میں ناپید ہو چکا ہے۔

ٹی وی اور تھیٹر سے دوری کی پراسرار وجہ

ٹی وی اسکرین کے لیے سٹوڈیو ڈھائی، سٹوڈیو پونے تین اور ششوٹائم جیسے یادگار اور سدا بہار پروگرام لکھنے والے انور مقصود سے جب ان کے مداحوں کی جانب سے یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ اب ٹی وی اور تھیٹر سے دور کیوں ہیں؟ تو انہوں نے حسبِ روایت مسکراتے ہوئے اور ہنستے ہوئے جواب دیا:

“اس کی وجہ میں اکیلے میں تو بتا سکتا ہوں، لیکن سب کے سامنے نہیں!”

ان کے اس جملے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ دور کے میڈیا سینسر شپ، اسکرپٹس کے گرتے ہوئے معیار اور کمرشل ازم کی وجہ سے وہ موجودہ ٹی وی اسکرین سے مطمئن نہیں ہیں اور خود کو اس ماحول سے الگ رکھنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

خلاصہ

انور مقصود محض ایک لکھاری نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے کے نبض شناس ہیں۔ ان کا یہ انٹرویو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک قوم کے طور پر ہم پندرہ بیس سالوں میں وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے۔ عظیم الشان ٹی وی (azeemulshantv.com) اپنے قارئین کے لیے ایسی ہی فکری اور شوبز سے جڑی اہم رپورٹس مسلسل لاتا رہے گا۔

Related Posts