چمن میں فائرنگ، 8 افراد جاں بحق (یکم جون 2026)

چمن میں فائرنگ اور قبائلی تصادم: امن و امان کی سنگین صورتحال

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور اس کے گردونواح میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب امن و امان کی صورتحال اس وقت شدید خراب ہو گئی جب فائرنگ کے دو مختلف اور لرزہ خیز واقعات میں مجموعی طور پر ۸ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان واقعات نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، رات گئے پیش آنے والے ان واقعات کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور پولیس و دیگر سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکام ان واقعات کے پیچھے چھپے محرکات اور ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے کوشاں ہیں۔

میزئی اڈا کے قریب فائرنگ اور عوامی احتجاج

پولیس ذرائع کے مطابق، فائرنگ کا پہلا اندوہناک واقعہ میزئی اڈا کے قریبی علاقے میں پیش آیا۔ جہاں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح ملزمان نے گھات لگا کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ واردات کے بعد ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں باآسانی کامیاب ہو گئے۔

اس ہولناک واقعے کے بعد مقتولین کے لواحقین اور مقامی قبائل میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ مقتولین کے لواحقین نے لاشوں کے ہمراہ شدید احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ چمن شاہراہ کو مسے زائی کے مقام پر ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں، ملزمان کو گرفتار کریں اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، تب تک وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ شاہراہ کی بندش کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

دولنگی میں دو قبائل کے درمیان مسلح تصادم

فائرنگ کا دوسرا واقعہ چمن کے ہی ایک دوسرے علاقے دولنگی میں پیش آیا، جہاں دو مقامی قبائل کے درمیان دیرینہ دشمنی یا کسی تنازعے پر مسلح تصادم ہو گیا۔ دونوں اطراف سے جدید ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور شدید فائرنگ کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔

اس خونی تصادم کے نتیجے میں گولیوں کی زد میں آ کر تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے میں پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی، تاہم قبائلی تناؤ اب بھی برقرار ہے۔ واضح رہے کہ چمن میں قبائلی اور گروہی تصادم کی تاریخ نئی نہیں ہے، اس سے قبل گزشتہ سال بھی دو گروہوں کے مابین ہونے والے ایسے ہی ایک مسلح تصادم میں ۷ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔

بلوچستان اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال، قبائلی تنازعات اور پولیس کی کارروائیوں سے متعلق تازہ ترین خبروں کے لیے آپ عظیم الشان ٹی وی  کا یہ مخصوص حصہ ملاحظہ کر سکتے ہیں:

Related Posts