شینگن ویزا رپورٹ: پاکستانیوں کے لیے آسٹریا کی سخت پالیسی، بیلجیئم ویزا جاری کرنے میں سرفہرست
تحریر: ادارتی صفحہ بروز: 2 جون 2026
یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ حالیہ سالانہ ویزا رپورٹ میں پاکستانی شہریوں کے لیے شینگن ویزوں کے حوالے سے انتہائی اہم اور دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے تفصیلی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سال دو ہزار پچیس کے دوران پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنے کے معاملے میں یورپی ممالک نے مختلف رویہ اپنایا۔ اس رپورٹ کے مطابق، بیلجیئم نے آسٹریا کے مقابلے میں پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے زیادہ نرمی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، جبکہ آسٹریا کی ویزا پالیسی انتہائی سخت رہی۔
آسٹریا اور بیلجیئم کے اعداد و شمار کا موازنہ
رپورٹ کے مطابق، آسٹریا کو پاکستانی شہریوں کی جانب سے دو ہزار پانچ سو تینتالیس ویزا درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے صرف چھ سو چھتیس درخواستیں منظور کی گئیں۔ ان منظور شدہ ویزوں میں بیاسی ملٹی پل انٹری ویزے اور چار محدود علاقائی حیثیت کے ویزے شامل تھے۔ آسٹریا نے ایک ہزار سات سو اٹھاون درخواستیں مسترد کیں، جس کے بعد اس کی ویزا نہ جاری کرنے کی شرح پلہتر اعشاریہ تین فیصد رہی۔ واضح رہے کہ محدود علاقائی حیثیت والے ویزے کے تحت مسافر صرف آسٹریا یا چند مخصوص یورپی ممالک کا ہی سفر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، بیلجیئم نے پاکستانیوں کے لیے کہیں زیادہ مثبت رویہ اپنایا۔ بیلجیئم کو چار ہزار نو سو ستاسی درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے دو ہزار بتیس درخواستیں منظور کر لی گئیں۔ ان میں پانچ سو سترہ ملٹی پل انٹری ویزے اور اڑتالیس محدود علاقائی حیثیت کے ویزے شامل تھے۔ بیلجیئم نے دو ہزار آٹھ سو سات درخواستیں مسترد کیں، جس کے بعد وہاں سے ویزا مسترد ہونے کی شرح ستاون اعشاریہ چار فیصد رہی، جو آسٹریا کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
عالمی سطح پر شینگن ویزا درخواستوں کا رجحان
یورپی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، سال دو ہزار پچیس میں دنیا بھر سے یورپی یونین اور شینگن ممالک کے قونصل خانوں کو قلیل مدتی ویزوں کے لیے مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ یہ تعداد دو ہزار چوبیس کے مقابلے میں ایک اعشاریہ آٹھ فیصد اور دو ہزار تئیس کے مقابلے میں پندرہ اعشاریہ پانچ فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، یہ شرح اب بھی کورونا کی عالمی وبا سے قبل یعنی سال دو ہزار انیس کی ایک کروڑ ستر لاکھ درخواستوں کے مقابلے میں کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال ایک کروڑ سے زائد ویزے جاری کیے گئے، جن میں سے پچاس فیصد سے زائد ملٹی پل انٹری ویزے تھے۔ عالمی سطح پر ویزا مسترد ہونے کی مجموعی شرح چودہ اعشاریہ آٹھ فیصد پر برقرار رہی۔ روس، الجزائر اور ایتھوپیا جیسے ممالک میں ویزا مسترد ہونے کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جبکہ چند افریقی ممالک میں یہ شرح مزید بڑھ گئی۔
ویزا درخواستیں جمع کرانے والے سرفہرست ممالک
یورپی یونین کو شینگن ویزا کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دینے والے دنیا کے پانچ سرفہرست ممالک میں درج ذیل شامل رہے:
-
چین
-
ترکیہ
-
بھارت
-
روس
-
مراکش
اعداد و شمار کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر یورپی ویزوں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن پاکستانی شہریوں کے لیے بیلجیئم کا انتخاب آسٹریا کے مقابلے میں زیادہ سود مند ثابت ہو رہا ہے کیونکہ بیلجیئم نہ صرف زیادہ تعداد میں بلکہ بہتر شرح کے ساتھ پاکستانیوں کو شینگن ویزے جاری کر رہا ہے۔