پاکستان کرکٹ کے لیے تاریخی لمحہ: چیمپئنز ٹرافی کے بعد ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی بھی پاکستان کے نام
تحریر: ادارتی صفحہ بروز: 2 جون 2026
پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مکمل بحالی کی سمت میں ایک اور بہت بڑی اور تاریخی کامیابی سامنے آئی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان کو ایک اور عالمی کرکٹ میلے کی میزبانی دینے کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ مردوں کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کے کامیاب فیصلوں کے بعد اب پاکستان کو ویمنز ٹی20 ورلڈکپ دو ہزار اٹھائیس کی میزبانی بھی سونپ دی گئی ہے، جو کہ ملک میں خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
بھارتی ٹیم کے میچز اور ہائبرڈ ماڈل کا امکان
روایتی حریفوں کے درمیان سفارتی کشیدگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس میگا ایونٹ کے لیے بھی ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق، بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کے تمام میچز پاکستان کے بجائے کسی نیوٹرل وینیو (غیر جانبدار مقام) پر کھیلے جائیں گے۔ اس فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹورنامنٹ کو ممکنہ طور پر ہائبرڈ ماڈل کے تحت منعقد کیا جائے گا تاکہ تمام ٹیموں کی شرکت کو بغیر کسی سیاسی رکاوٹ کے یقینی بنایا جا سکے۔
ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور ٹیموں کی تعداد
پاکستان میں شیڈول اس ورلڈ کپ میں دنیا بھر سے بارہ ٹیمیں ٹرافی کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ اس بارہ ٹیموں کے ٹورنامنٹ میں دس ٹیمیں براہِ راست (خودکار طریقے سے) کوالیفائی کریں گی، جس کا طریقہ کار درج ذیل رکھا گیا ہے:
-
آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کی ٹاپ آٹھ ٹیمیں براہِ راست جگہ بنائیں گی۔
-
میزبان ملک (پاکستان) اگر پہلے آٹھ نمبروں میں شامل نہ ہوا تو وہ بطور میزبان براہِ راست کوالیفائی کرے گا۔
-
چھ جولائی دو ہزار چھبیس تک آئی سی سی ویمنز رینکنگ میں موجود اگلی سب سے اونچے درجے والی ٹیمیں اس فہرست کا حصہ بنیں گی۔
گلوبل کوالیفائر اور علاقائی الاٹمنٹ
براہِ راست کوالیفائی کرنے والی دس ٹیموں کے بعد، بقیہ دو مقامات کا تعین کرنے کے لیے دس ٹیموں پر مشتمل ایک عالمی کوالیفائر مرحلہ (گلوبل کوالیفائر) منعقد کیا جائے گا۔ اس عالمی مرحلے کو مختلف خطوں میں ہونے والے علاقائی کوالیفائرز کی حمایت حاصل ہوگی۔ آئی سی سی حکام کے مطابق، رواں سال جولائی میں ہونے والے کونسل کے سالانہ اجلاسوں کے دوران علاقائی الاٹمنٹ اور کوالیفائنگ میچوں کے شیڈول کو حتمی شکل دی جائے گی۔
کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بیک ٹو بیک آئی سی سی کے دو بڑے ایونٹس کی میزبانی ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری کا پاکستان کے سکیورٹی انتظامات اور کرکٹ بورڈ کی انتظامی صلاحیتوں پر اعتماد بحال ہو چکا ہے۔