واشنگٹن فضائی حادثہ: فوجی ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس برآمد، تحقیقات اور ریسکیو آپریشن تیز

واشنگٹن فضائی حادثہ: فوجی ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس برآمد

امریکا کی ریاست واشنگٹن میں پیش آنے والے افسوسناک فضائی حادثے کے دو روز بعد ریسکیو حکام کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جائے حادثہ پر مسلسل جاری سرچ آپریشن کے دوران تباہ ہونے والے امریکی فوج کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس (کاک پٹ وائس ریکارڈر) مل گیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق، ریسکیو آپریشن میں مصروف ٹیموں نے بلیک باکس ملنے کی تصدیق کی ہے، جس سے حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے میں مدد ملنے کی قوی امید ہے۔

اس ہولناک واقعے میں ایک مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر فضا میں آپس میں ٹکرا گئے تھے، جس کے بعد دونوں کا ملبہ قریبی دریا میں جا گرا۔ یہ حادثہ حالیہ تاریخ کے سنگین ترین فضائی حادثات میں سے ایک بن چکا ہے، اور حکام تاحال اس کے محرکات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریسکیو آپریشن اور لاشوں کی برآمدگی

جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں اب بھی پورے زور و شور سے جاری ہیں اور ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ وہ آپریشن کو مزید وسیع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق:

  • دریا سے جمعہ کے روز تک 41 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

  • برآمد ہونے والی لاشوں میں سے اب تک 28 افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔

  • حکام کے مطابق، کئی لاشیں اب بھی پانی کے اندر موجود ملبے میں پھنسی ہوئی ہیں، جنہیں اس وقت تک نکالنا ناممکن ہے جب تک جہاز کے بھاری ملبے کو کرینوں یا دیگر مشینوں کی مدد سے پانی سے باہر نہیں نکال لیا جاتا۔

اس بدقسمت حادثے کا شکار ہونے والوں میں ایک پاکستانی خاتون بھی شامل تھیں، جن کی لاش ریسکیو ٹیموں نے گزشتہ روز پانی سے نکال لی تھی۔

فضائی حدود پر پابندیاں اور ائیرپورٹ کی صورتحال

اس ہولناک تصادم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے امریکا کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے فوری اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکام نے اوریگن ائیرپورٹ اور اس کے قریبی فضائی حدود (ائیر اسپیس) میں ہیلی کاپٹرز کی آمدورفت کو عارضی طور پر انتہائی محدود کر دیا ہے۔

ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ جائے حادثہ کے اوپر فضائی حدود میں رش (Overcrowding) سے بچا جا سکے اور ریسکیو اور سرویلنس ہیلی کاپٹرز کو اپنا کام کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

حادثے کی وجوہات اور تحقیقاتی چیلنجز

بلیک باکس ملنے کے باوجود نیشنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے اعلیٰ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ حادثے کی حتمی وجہ تک پہنچنے سے اب بھی دور ہیں۔ ان کے مطابق، مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جن میں موسم کی خرابی، ایئر ٹریفک کنٹرول کی مبینہ غلطی، یا کوئی تکنیکی خرابی شامل ہے۔

تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ملنے والا ڈیٹا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے گا تاکہ حادثے کے آخری سیکنڈز کی اصل تصویر سامنے آ سکے۔

حکام نے مزید بتایا کہ دریا کی گہرائی میں موجود شواہد کو اکٹھا کرنے کے لیے ماہر غوطہ خوروں (Divers) کو بھی پانی میں اتارا جائے گا۔ تاہم، غوطہ خوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دریا کے تیز بہاؤ اور جہاز کے بکھرے ہوئے تیز دھار ملبے کو پہلے وہاں سے ہٹانا ناگزیر ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک ملبے کا بڑا حصہ ہٹا نہیں لیا جاتا، غوطہ خوروں کے لیے نیچے جانا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی ایوی ایشن ماہرین کی نظریں اب بلیک باکس کی ڈی کوڈنگ پر لگی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے مہلک حادثات سے بچا جا س

Related Posts