گلگت بلتستان الیکشن: پیپلز پارٹی کی تاریخی کامیابی، 19 نشستوں کے سرکاری نتائج کی مکمل تفصیلات
گلگت بلتستان کے عوام نے اگلے پانچ سال کے لیے اپنا سیاسی فیصلہ سنا دیا ہے۔ طویل انتخابی مہم اور پولنگ کے بعد اب الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کی جانب سے باقاعدہ نتائج کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق، پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) خطے کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔
مجموعی طور پر اب تک موصول ہونے والے 19 نشستوں کے نتائج میں سے 9 نشستیں پیپلز پارٹی نے اپنے نام کی ہیں، جبکہ وفاق میں برسرِاقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) کو شدید سیاسی دھچکا لگا ہے اور وہ اب تک صرف 3 نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ اس کے علاوہ 6 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایک نشست مجلس وحدت مسلمین (MWM) کے حصے میں آئی ہے۔ الیکشن کی پل پل کی لائیو اپڈیٹس کے لیے آپ اے آر وائی نیوز کی ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔
حلقہ وائز نتائج کا تفصیلی جائزہ
مختلف اضلاع اور حلقوں سے آنے والے سرکاری اور غیر حتمی نتائج کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
۱. گلگت اور ہنزہ ریجن
-
جی بی 1 (گلگت 1): اس اہم حلقے سے پیپلز پارٹی کے امجد ایڈووکیٹ 10,594 ووٹ لے کر شاندار فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے شفیق الدین 6,316 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آئے۔
-
جی بی 2 (گلگت 2): اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے مقتدر رہنما حافظ حفیظ الرحمن نے 11,204 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ پی پی کے جمیل احمد 7,376 ووٹ لے سکے۔
-
جی بی 3 (گلگت 3): یہاں آزاد امیدوار سہیل عباس نے 7,853 ووٹ لے کر سب کو حیران کر دیا اور کامیابی سمیٹی۔
-
جی بی 6 (ہنزہ): ہنزہ سے بھی آزاد امیدوار نیک نام کریم 6,390 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے، جبکہ پی پی کے کرنل (ر) امتیاز الحق 5,417 ووٹ حاصل کر سکے۔
۲. نگر اور غذر کے حلقے
-
جی بی 4 (نگر 1): پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7,654 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ اسلامی تحریک کے محمد ایوب وزیری دوسرے نمبر پر رہے۔
-
جی بی 5 (نگر 2): پیپلز پارٹی کے ذوالفقار مراد 2,628 ووٹ لے کر فاتح رہے اور آزاد امیدوار ریاض اکبر دوسرے نمبر پر آئے۔
-
جی بی 19 (غذر 1): پی پی کے سید جلال شاہ 9,613 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔
-
جی بی 20 (غذر 2): مسلم لیگ (ن) کے عبدالججہان 6,917 ووٹ لے کر سخت مقابلے کے بعد کامیاب ہوئے۔
-
جی بی 21 (غذر 3): آزاد امیدوار امان علی عامر نے 9,938 ووٹ لے کر میدان مارا۔
۳. بلتستان ریجن (اسکردو، شگر اور کھرمنگ)
بلتستان ڈویژن میں پیپلز پارٹی نے کلین سویپ جیسی کارکردگی دکھائی ہے:
-
جی بی 7 (اسکردو 1): پی پی کے توقیر مہدی شاہ 4,320 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔
-
جی بی 8 (اسکردو 2): ایم ڈبلیو ایم (MWM) کے کاظم میثم 10,658 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ پی پی کے سید محمد علی شاہ 10,065 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
-
جی بی 9 (اسکردو 3): پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فدا ناشاد 6,314 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔
-
جی بی 10 (اسکردو 4): پی پی کے ناصر علی مقپون 6,639 ووٹ لے کر فاتح رہے۔
-
جی بی 11 (کھرمنگ): پیپلز پارٹی کے اقبال حسین 5,944 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
-
جی بی 12 (شگر): یہاں سے پیپلز پارٹی کے عمران ندیم نے 12,944 ریکارڈ ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
۴. گانچھے اور دیامر کے نتائج
-
جی بی 18 (دیامر 4): ن لیگ کے کفایت الرحمان 5,521 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
-
جی بی 22 (گانچھے 1): مسلم لیگ (ن) کے ابراہیم ثنائی 10,136 ووٹ لے کر فاتح رہے۔
-
جی بی 23 (گانچھے 2): آزاد امیدوار انور علی 12,117 ووٹ لے کر بڑی اکثریت سے جیتےے۔
-
جی بی 24 (گانچھے 3): آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق 8,092 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کا ڈھانچہ اور حکومت سازی کا جوڑ توڑ
گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے۔ الیکشن کے قوانین کے مطابق:
-
24 نشستوں پر عوام براہِ راست اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔
-
6 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔
-
3 نشستیں ٹیکنوکریٹس اور علما کے لیے مختص کی گئی ہیں۔
سادہ اکثریت کا فارمولا: گلگت بلتستان الیکشن کے بعد خطے میں نئی حکومت بنانے اور وزیراعلیٰ کا انتخاب کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت یا اتحاد کو ایوان میں 17 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنا لازمی ہے۔
موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی 9 نشستیں حاصل کر کے سب سے آگے ہے، لیکن حکومت بنانے کے لیے اسے مزید 8 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ چونکہ اس بار 6 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، اس لیے حکومت سازی میں ان کا کردار سب سے اہم ہو گیا ہے، اور پیپلز پارٹی نے حکومت بنانے کے لیے آزاد ارکان سے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔
نتیجہ
گلگت بلتستان الیکشن 2026 کے اب تک کے نتائج یہ واضح کرتے ہیں کہ خطے کے عوام نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وفاق میں حکومت ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی مایوس کن کارکردگی ان کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ اب تمام تر نظریں آزاد امیدواروں کے فیصلوں پر لگی ہیں کہ وہ کس کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں اور گلگت بلتستان کا اگلا وزیراعلیٰ کون بنتا ہے۔