علمائے کرام کی محرم الحرام کے لیے بہترین حکمت عملی اور پیغامِ امن
محرم الحرام اسلامی تاریخ کا وہ مقدس اور تاریخی مہینہ ہے جو اپنے دامن میں عظیم الشان قربانیاں، لامتناہی صبر اور حق و باطل کے معرکے کی لازوال داستان سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ مہینہ محض ایک نئے سال کا آغاز نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے فکری بیداری، ایمانی تجدید اور امن و سلامتی کے آفاقی پیغام کا سرچشمہ ہے۔
خلیفہ المسلمین سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں ظلم، جبر اور آمریت کے خلاف جو لازوال قربانی پیش کی، اس کا اصل مقصد انسانیت کی فلاح، عدل و انصاف کا قیام اور امنِ عامہ کی بحالی تھا۔
کربلا کا یہ عظیم پیغام کسی ایک مکتبہ فکر، نسل یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا وہ منارہ ہے جو ظلم کے اندھیروں میں حق کی شمع روشن کرنا سکھاتا ہے۔ دینِ اسلام کی بنیادیں امن، سلامتی، اخوت اور باہمی احترام پر استوار ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع انسانی حقوق اور عالمی امن کا سب سے پہلا اور جامع ترین منشور ہے، جس میں تمام مسلمانوں کے خون، مال اور عزت کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا گیا۔
حضرت امام حسینؓ نے بھی جب مدینہ منورہ سے سفر کا آغاز فرمایا تھا تو واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا تھا کہ ان کا مقصد کوئی اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح ہے۔ معرکہ کربلا دراصل دو نظریات کی جنگ تھا:
-
باطل نظریہ: جو طاقت کے زور پر انسانی حقوق سلب کرنا اور معاشرے میں خوف پھیلانا چاہتا تھا۔
-
حسینی نظریہ: جو عدل، حریت اور انسانی وقار کی بحالی کا علمبردار تھا۔
عالمی تنازعات اور مسلم امہ کے خلاف سازشیں
آج اگر ہم عالمی منظرنامے پر نظر دوڑاتے ہیں تو مسلم امہ کو تاریخ کے نازک ترین دور سے گزرتا ہوا پاتے ہیں۔ ایک طرف بیرونی استعماری طاقتیں اپنے مفادات کے لیے مسلم ممالک کو عدم استحکام کا شکار کر رہی ہیں، تو دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو بنیاد بنا کر امت مسلمہ کو آپس میں لڑانے کی ایک گہری عالمی سازش تیار کی جا چکی ہے۔
عالمی سازش کا اصل مقصد: ایران امریکا تنازع کو خالصتاً ایک سیاسی یا تزویراتی جنگ کے بجائے عرب و عجم کی فرقہ وارانہ جنگ کا رنگ دے دیا جائے، تاکہ مسلم دنیا کی توجہ اپنے اصل اور دیرینہ مسائل جیسے کہ فلسطین کی آزادی اور کشمیر کا مسئلہ سے ہٹ جائے اور مسلمان آپس میں لڑ کر اپنی ہی طاقت ختم کر بیٹھیں۔
“پیغام پاکستان”: فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا تاریخی معاہدہ
جب پاکستان کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ نفرتوں نے اپنی لپیٹ میں لے کر مادر وطن کو کمزور کرنے کی کوشش کی، تو ملک کے ہزاروں جید علماء نے اسلام کے اصل پرامن چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے ’’پیغام پاکستان‘‘ کا تاریخی بیانیہ تشکیل دیا۔ یہ دستاویز پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر بشمول علماء اہل سنت، اہل تشیع، اہل حدیث، بریلوی اور دیوبندی کے مابین ایک مقدس اور تاریخی معاہدہ ہے۔
پیغام پاکستان کے اہم نکات:
-
تکفیر کی ممانعت: کسی بھی شخص یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ لوگوں پر کفر کے فتوے لگائے یا شریعت کے نام پر ہتھیار اٹھائے۔
-
مقدسات کا احترام: تمام مسالک کے مقدسات بشمول صحابہ کرامؓ، اہل بیت اطہارؓ اور امہات المومنینؓ کی توہین ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔
-
بقائے باہمی کا سنہری اصول: اس بیانیے کا خلاصہ یہ ہے کہ “ہمیں اپنا مسلک چھوڑنا نہیں اور دوسرے کا مسلک چھیڑنا نہیں”۔
محرم الحرام اور پاکستانی علماء کی معاصر حکمت عملی
دشمن ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ محرم الحرام کے دوران، جب تمام مسالک کے مذہبی جذبات بیدار ہوتے ہیں، اس ماحول کا فائدہ اٹھا کر کوئی ایسا فتنہ کھڑا کیا جائے جس سے ملک کا امن و سکون برباد ہو۔ تاہم، پاکستان کی مذہبی قیادت نے منبر و محراب کا استعمال نفرتیں پھیلانے کے بجائے محبت، رواداری اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے کیا ہے۔
علماء کرام نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی اپنی ایک آزاد خارجہ پالیسی ہے اور اس کی دھرتی کو کسی بھی بیرونی طاقت کی جنگ کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ضلعی امن کمیٹیوں کا فعال کردار
اب جب کہ محرم الحرام کی آمد ہے، صوبائی اور قومی سطح پر تمام امن کمیٹیاں مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہیں۔ ہر شہر اور ضلع میں قائم یہ کمیٹیاں کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی یا غلط فہمی کو انتظامیہ کے ساتھ مل کر فوری طور پر سلجھاتی ہیں۔
اس حکمت عملی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ عوام کے اندر یہ شعور پیدا ہو چکا ہے کہ ملک کا امن برقرار رکھنا صرف فوج یا پولیس کا کام نہیں بلکہ ہر شہری کی اخلاقی ذمے داری ہے۔ جب عوام اور علمائے کرام کے دل آپس میں جڑے ہوں، تو کوئی بھی بیرونی سازش اس سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔
مزید پڑھیں اور تازہ ترین حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیےAzeemulshan TV کے دیگر معلوماتی مضامین ملاحظہ کریں۔