ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع؛ تہران اور بندرعباس میں شدید دھماکے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیوں کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد دارالحکومت تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان تازہ فضائی حملوں کے بعد تہران اور جنوبی شہر بندرعباس سمیت تمام متعلقہ علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔
تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال
مقامی ذرائع کے مطابق، دارالحکومت کے علاوہ ایرانی شہر سیریک اور میناب میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اگرچہ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ فی الحال ان دھماکوں کی حتمی نوعیت اور نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ مغربی تہران میں ایران کا فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) فعال ہو چکا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا مؤقف
دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں خطے کی موجودہ صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال: ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری یہ تزویراتی کشیدگی اب ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے اثرات پورے خطے کے امن و امان پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ٹرمپ کی دھمکی اور ایران کا سخت ردعمل
اس سنگین صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ترین مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ حملے ایران کے مسلسل اور اشتعال انگیز اقدامات کا جواب ہیں، اور ضرورت پڑنے پر آنے والے دنوں میں مزید سخت فوجی کارروائیوں سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ دوسری طرف، ایرانی قیادت اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس امریکی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کسی بھی فوجی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائے گا اور اپنی خود مختاری پر ہونے والے ہر حملے کا بھرپور اور دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ اس کشیدگی کے بعد ایران نے علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ہنگامی رابطے بھی شروع کر دیے ہیں۔
عالمی منظرنامہ اور علاقائی اثرات
اس نازک دور میں جہاں بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے مسلم ممالک عدم استحکام کا شکار ہو رہے ہیں، وہیں ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے تنازعات مسلم امہ کو تقسیم کرنے اور اہم ترین عالمی مسائل جیسے کہ فلسطین اور کشمیر سے توجہ ہٹانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی مذہبی اور سیاسی قیادت اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی بیرونی جنگ کے اثرات کو دیگر ممالک تک پہنچنے سے روکا جائے اور سفارتی ذرائع سے امن قائم کیا جائے۔
یہ حملے ایران کی جانب سے مسلسل اور اشتعال انگیز اقدامات کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں، سینٹکام
خطے کی صورتحال اور تازہ ترین عالمی حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیےAzeemulshan TV کے انٹرنیشنل نیوز سیکشن کا وزٹ کریں۔