وفاقی بجٹ 2026-27 تنخواہ دار طبقے اور رئیل اسٹیٹ کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان
حکومت پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 17 کھرب روپے کا تاریخی محصولات (ٹیکس) ہدف مقرر کر دیا ہے۔ معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مہنگائی سے پسے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اس بجٹ میں جہاں 360 ارب روپے کی ٹیکس رعایتیں دی گئی ہیں، وہاں دوسری جانب قومی خزانے کو سہارا دینے کے لیے 306 ارب روپے کے نئے ٹیکس بھی عائد کیے گئے ہیں۔
یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کی وجہ سے یہ ٹیکس اہداف حکومت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے 52 ارب روپے کا بڑا ریلیف پیکیج
حکومت نے ملازمت پیشہ اور تنخواہ دار طبقے کی قوتِ خرید میں اضافے کے لیے 52 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکم ٹیکس کے سلیبس (Slabs) میں کی جانے والی تبدیلیاں درج ذیل ہیں:
-
2 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدن: ٹیکس کی شرح کو 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔
-
3 لاکھ 41 ہزار روپے ماہانہ آمدن: اس سلیب کے لیے ٹیکس کی شرح 25 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
-
4 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدن: اب اس آمدنی پر 29 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
-
5 لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ آمدن: اس حد تک آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 32 فیصد ہوگی۔
سالانہ آمدن پر 35% ٹیکس کی حد میں بڑی نرمی
وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) کے مطابق، سب سے زیادہ یعنی 35 فیصد ٹیکس کی حد کو سالانہ 41 لاکھ روپے سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے سالانہ (یعنی ماہانہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد) کر دیا گیا ہے۔ اس بڑی نرمی کی بدولت اب ایک اعلیٰ تنخواہ دار فرد کو سالانہ تقریباً 2 لاکھ 57 ہزار روپے تک کا براہ راست ریلیف حاصل ہو سکے گا۔
رئیل اسٹیٹ اور کاروباری شعبے کے لیے مراعات
معاشی پہیے کو متحرک کرنے کے لیے حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو 115 ارب روپے کی ٹیکس رعایت فراہم کی ہے۔ تاہم، اندرونی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف (IMF) نے رئیل اسٹیٹ ٹیکسوں میں اس کمی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
اس کے علاوہ دیگر اہم کاروباری اور فلاحی اقدامات درج ذیل ہیں:
-
برآمدی آمدن (Export Income): ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے۔
-
آئی ٹی برآمدات (IT Exports): آئی ٹی سیکٹر کے فروغ کے لیے 0.25 فیصد کی رعایتی ٹیکس شرح میں مزید 3 سال کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔
-
بیرون ملک کارڈ کا استعمال: بیرون ملک کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد سے یکمشت کم کر کے صرف 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔
-
ڈیجیٹلائزیشن پر ٹیکس کریڈٹ: ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے منسلک ہونے اور الیکٹرانک وسائل میں سرمایہ کاری کرنے والے کاروباروں کو 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ دیا جائے گا۔
-
اثاثوں پر ٹیکس کا خاتمہ: بیرون ملک منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں پر عائد 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT) کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
الیکٹرک اور بڑی گاڑیوں پر بھاری ٹیکسز کا نفاذ
ایک طرف جہاں گرین انرجی اور ماحول دوست گاڑیوں کو فروغ دینے کی باتیں کی جا رہی ہیں، وہیں بجٹ میں مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کر دی گئی ہے:
-
2 سے 3 کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑیاں: ان پر 30 فیصد FED عائد کی گئی ہے۔
-
3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیاں: ان پر ڈیوٹی بڑھا کر 40 فیصد کر دی گئی ہے۔
مزید برآں، پٹرول سے چلنے والی بھاری اور پرتعیش گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے 2000 سے 3000 سی سی کی گاڑیوں پر 70 فیصد اور 3000 سی سی سے زائد کی اندرونی احتراق (Internal Combustion Engine) والی گاڑیوں پر 81 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔
کسٹمز ڈیوٹی میں کمی اور قومی ٹیرف پالیسی
صنعتی پیداوار کو سستا کرنے اور درآمدی خام مال کی لاگت کم کرنے کے لیے قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت حکومت نے مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی رعایت کا اعلان کیا ہے:
-
1,914 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو یا تو بالکل ختم کر دیا گیا ہے یا اس میں نمایاں کمی لائی گئی ہے۔
-
3,125 ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
-
20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کے سلیب کو کم کر کے 15 اور 10 فیصد، جبکہ 15 اور 10 فیصد کے سلیبز کو کم کر کے بالترتیب 10 اور 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 92 ٹیرف لائنز پر سے 5 فیصد ڈیوٹی کو مکمل ختم کر دیا گیا ہے، جس سے ملک کی اوسط وزنی ٹیرف شرح 3.56 فیصد کم ہو کر 13 فیصد پر آ گئی ہے۔
پیٹرولیم لیوی اور دیگر اضافی لیویز کے اہداف
مالی سال 2026-27 کے دوران ایف بی آر کے بنیادی ٹیکس ہدف (15.264 کھرب روپے) کے علاوہ حکومت نے نان-ٹیکس آمدنی اور لیویز کے ذریعے خطیر رقم جمع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے:
-
پیٹرولیم لیوی ہدف: پٹرول اور ڈیزل پر عوام سے ریکارڈ 1.68 کھرب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں اکٹھے کیے جائیں گے۔
-
کلائمیٹ سپورٹ لیوی: ماحولیاتی تحفظ کے نام پر 50 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے۔
-
ای وی ایڈاپشن ٹیکس: الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال پر 22.8 ارب روپے کا نیا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف (IMF) کی کڑی شرائط کا چیلنج
رواں مالی سال کے برعکس، آنے والے مالی سال 2026-27 میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف محض ایک کاغذی ہدف نہیں بلکہ آئی ایم ایف پروگرام کی باقاعدہ لازمی شرط ہے۔ اگر حکومت اس ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے یا محصولات میں کسی قسم کی کمی آتی ہے، تو حکومت کو آئی ایم ایف بورڈ سے باقاعدہ رعایت (Waiver) لینی پڑے گی، جو کہ معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 306 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ 354 ارب روپے کے نفاذی اقدامات (Enforcement Measures) پر بھی سخت عمل درآمد کرے گی۔