گھر بیٹھے ڈالرز کمانے کا انوکھا طریقہ: مصنوعی ذہانت (AI)

مصنوعی ذہانت (AI) کا دھماکے دار آغاز: بھارت میں لوگ گھریلو کاموں کی ویڈیوز بنا کر روبوٹس کو تربیت دینے لگے، ڈالرز میں بھاری معاوضہ

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں روزگار کے روایتی تصورات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جہاں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اے آئی لوگوں کی نوکریاں ختم کر دے گا، وہیں بھارت میں ایک بالکل انوکھا اور جدید شعبہ روزگار سامنے آیا ہے۔ اب لوگ اپنے گھر کے روزمرہ کام کاج کی ویڈیوز بنا کر روبوٹس کو انسانوں کی طرح کام کرنا سکھا رہے ہیں اور اس کے بدلے ڈالرز کی صورت میں معقول معاوضہ حاصل کر رہے ہیں۔

گھر بیٹھے ڈالرز کمانے کا نیا ذریعہ

عالمی میڈیا نیٹ ورک “الجزیرہ” کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت اب گھریلو اور صنعتی ملازمتوں کی دنیا کو تیزی سے بدل رہی ہے۔ بھارت میں اس وقت ہزاروں افراد ایسے ہیں جو صرف ویڈیوز ریکارڈ کرنے کے عوض اچھا خاصا معاوضہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ افراد بنیادی طور پر اے آئی ماڈلز اور روبوٹس کے لیے “ٹیکسٹ بک” یا گائیڈ کا کام کر رہے ہیں، تاکہ مستقبل کے روبوٹس بالکل انسانوں کی طرح باریک بینی سے کام کرنا سیکھ سکیں۔

ہیڈ کیمرے اور روزمرہ سرگرمیاں: روبوٹس کی تربیت کیسے ہوتی ہے؟

تکنیکی ماہرین کے مطابق، اس کام کے لیے کوئی خاص راکٹ سائنس یا پروگرامنگ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

  • طریقہ کار: تربیت کار (آئی ٹی ورکرز یا عام شہری) اپنے سر پر خصوصی طور پر تیار کردہ ہیڈ کیمرے (Head Cameras) لگا لیتے ہیں۔

  • ریکارڈنگ: اس کے بعد وہ اپنے گھر کے عام کام کاج جیسے کھانا پکانا، برتن دھونا، صفائی کرنا، کپڑے تہہ کرنا یا چیزوں کو ترتیب سے رکھنا وغیرہ انجام دیتے ہیں اور یہ تمام عمل کیمرے میں ریکارڈ ہوتا رہتا ہے۔

  • ڈیٹا کی اہمیت: ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کے ہاتھ کی حرکات، وزن اٹھانے کا انداز اور مختلف اشیاء کو پکڑنے کا یہ ڈیجیٹل ڈیٹا ہی مستقبل کے ہیومنائیڈ روبوٹس (Humanoid Robots) کی بنیاد بنے گا۔ یہ روبوٹس ان ویڈیوز کو دیکھ کر سیکھیں گے کہ کسی انسانی ماحول میں کس طرح کام کیا جاتا ہے۔

جنوبی بھارت: اس نئے ڈیجیٹل روزگار کا مرکز

رپورٹ کے مطابق، یہ رجحان خاص طور پر جنوبی بھارتی ریاستوں (جیسے کرناٹک، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش) میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جو پہلے ہی اپنی آئی ٹی انڈسٹری اور ٹیک ٹیلنٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہاں کے نوجوان اور خواتین اپنے فارغ وقت میں یا کل وقتی ملازمت کے طور پر اس ڈیٹا اکٹھا کرنے (Data Collection) کے عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔

عالمی کمپنیاں اس ڈیٹا کو خریدنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان ویڈیوز کو فراہم کرنے والوں کو ڈالرز میں ادائیگی کی جاتی ہے، جو مقامی کرنسی کے لحاظ سے ایک بہترین اور معقول آمدنی بن جاتی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ: گھریلو روبوٹس کی آمد

ماہرینِ معیشت اور ٹیکنالوجی کا ماننا ہے کہ یہ نیا شعبہ روزگار اس بات کا ثبوت ہے کہ اے آئی انسانوں کو بے روزگار کرنے کے بجائے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ بھارت سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا جب ہیومنائیڈ روبوٹس کے اندر فیڈ کیا جائے گا، تو وہ وقت دور نہیں جب دنیا بھر کے گھروں اور فیکٹریوں میں ایسے روبوٹس نظر آئیں گے جو بالکل انسانوں کی طرح صفائی ستھرائی اور دیگر پیچیدہ کام منٹوں میں انجام دے سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی یہ پیش رفت دنیا بھر میں کام کے انداز، روزگار کے مواقع اور صنعتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Related Posts