ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے لیے 46 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص

وفاقی بجٹ 2026-27: اعلیٰ تعلیم کا فروغ، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے لیے 46 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں جامعات کی حالتِ زار کو بہتر بنانے اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے لیے 46 ارب روپے کے خطیر ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس بجٹ کا بڑا حصہ جاری تعلیمی منصوبوں کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے رکھا گیا ہے، جبکہ نئے وژنری منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ ملک میں تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔

بجٹ کی بنیادی تقسیم: جاری اور نئے منصوبے

حکومت کی جانب سے مختص کردہ 46 ارب روپے کے مجموعی بجٹ کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • جاری ترقیاتی منصوبے: پہلے سے جاری تعلیمی اسکیموں کو برقرار رکھنے اور مکمل کرنے کے لیے 43 ارب 80 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

  • نئے ترقیاتی منصوبے: مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے منصوبوں کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

جاری تعلیمی اسکیمیں اور علاقائی ترجیحات

پی ایس ڈی پی (PSDP) دستاویزات کے مطابق، ملک کی مختلف بڑی جامعات کے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کی بہتری اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون کے لیے خطیر رقوم رکھی گئی ہیں:

1. بین الاقوامی تعلیمی تعاون اور اسکالرشپس

  • سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز: پاک چین تعلیمی تعاون اور تحقیقی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے 100 ملین (10 کروڑ) روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  • افغان طلبہ کے لیے اسکالرشپس: علامہ محمد اقبال 3000 اسکالرشپ اسکیم کے تحت افغان طلبہ کے لیے 200 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔

2. طبی اور قانونی تعلیم کے لیے فنڈز

  • شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (اسلام آباد): یونیورسٹی کے جدید اکیڈمک بلاک کی تعمیر کے لیے 450 ملین روپے کی بڑی رقم رکھی گئی ہے۔

  • شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا (کراچی): ہاسٹل کی تعمیر اور تعلیمی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن کے لیے 339.710 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔

3. پسماندہ علاقوں اور ٹیکنالوجی یونیورسٹیوں پر توجہ

  • بلوچستان کی ترقی: قلعہ سیف اللہ میں “بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز” (BUITEMS) کے سب کیمپس کے قیام کے لیے 400 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  • سندھ کے لیے منصوبہ: حیدرآباد میں فیڈرل انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے لیے 300 ملین روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔

  • نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (NUTECH): اس کے نئے کیمپس کی تعمیر کے لیے بجٹ میں 300 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

اسکالرشپ پروگرامز اور وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم پر خصوصی توجہ

نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم اور جدید وسائل سے آراستہ کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے اسکالرشپ اور ڈیجیٹلائزیشن پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے:

  • بین الاقوامی پی ایچ ڈی اسکالرشپس (فیز III): بیرون ملک ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے والے ہونہار طلبہ کے لیے 1,800 ملین (1.8 ارب) روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

  • پاک-امریکا نالج کوریڈور: اس اہم ترین پروگرام کے تحت امریکہ کی ٹاپ یونیورسٹیز سے پی ایچ ڈی کرنے کے لیے 1,500 (1.5 ارب) روپے رکھے گئے ہیں۔

  • وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم و لیب اپ گریڈیشن: کوہاٹ، سوات، گوادر، لاہور اور بہاولپور سمیت ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا اور وہاں جدید ترین سائنسی لیبز قائم کی جائیں گی۔

مجموعی تعلیمی لاگت اور وزیر اعظم یوتھ پروگرام

ایچ ای سی (HEC) کے تحت جاری تمام تعلیمی اسکیموں کا کل تخمینہ لاگت اب 400,141.704 ملین (تقریباً 400 ارب) روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں سے رواں مالی سال 2026-27 کے لیے 43.8 ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ، طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی و فلاحی ترقی کے لیے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت مختلف فلاحی اور کھیلوں کے منصوبوں کے لیے 2,200 ملین (2.2 ارب) روپے الگ سے رکھے گئے ہیں۔ ان تمام فنڈز کو ملا کر ہائر ایجوکیشن کمیشن کا مجموعی بجٹ ایلوکیشن 46 ارب روپے کی حد کو چھو رہا ہے، جو ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

Related Posts